کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے میرے بندے! میں تیرے گمان کے مطابق تیرے ساتھ ہوں۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، حدثنا محمد بن القاسم الأَسَدي، حدثنا الرَّبيع بن صَبِيح، عن الحسن، عن أنس بن مالك قال: قال رسولُ الله ﷺ: "قال الله ﷿: عبدي أنا عند ظَنِّك بي، وأنا معك إذا ذَكَرْتَني" (1). ذِكْرُ الظن مخرَّج في "الصحيح" (2)، وذِكْرُ الدعاء غريبٌ صحيح (3)؛ فإنَّ محمد بن القاسم ثقة (4)! وفي هذا الإسناد يقول صالح جَزَرة: حدثنا ابن عركان (5).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: اے میرے بندے! میں تیرے اس گمان کے پاس ہوں جو تو میرے بارے میں رکھتا ہے، اور جب تو مجھے یاد کرتا ہے تو میں تیرے ساتھ ہوتا ہوں۔“ (امام حاکم فرماتے ہیں کہ) گمان کا ذکر تو ”صحیح“ (بخاری و مسلم) میں موجود ہے، جبکہ دعا کا ذکر غریب ہونے کے باوجود صحیح ہے کیونکہ محمد بن القاسم ثقہ راوی ہیں۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أبو بكر بن أبي الدنيا، حدثنا محمد بن يزيد الرِّفاعي، حدثنا وكيع، حدثنا عبيد الله بن عبد الرحمن بن مَوْهَب، عن عمه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "ما مِن عبدٍ يَنصِبُ وجهَه إلى الله ﷿ في مسألةٍ إلَّا أعطاه اللهُ إياها، إمّا أن يُعجِّلَها وإما أن يدَّخِرَها" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی بندہ کسی سوال (حاجت) کے لیے اپنا رخ اللہ عزوجل کی طرف کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے وہ چیز ضرور عطا فرماتا ہے، یا تو اسے دنیا ہی میں جلد دے دیتا ہے یا پھر اسے (آخرت کے لیے) ذخیرہ فرما لیتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔