المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
إِنَّ اللَّهَ حَيِيٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحِي مِنْ عَبْدِهِ أَنْ يَبْسُطَ إِلَيْهِ يَدَيْهِ ثُمَّ يَرُدَّهُمَا خَائِبَتَيْنِ باب: بے شک اللہ حیا والا اور کریم ہے، وہ اپنے بندے سے حیا کرتا ہے کہ بندہ اس کی طرف ہاتھ پھیلائے اور وہ انہیں خالی لوٹا دے۔
حدیث نمبر: 1851
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد بن محبوب التاجر بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سليمانُ التَّيمي، عن أبي عثمان النَّهْدي، عن سَلْمانَ قال: إِنَّ الله يَسْتَحْيي أَن يَبسُطَ العبدُ إليه يديه [يسألُه] (2) فيهما خيرًا فيردَّهما خائبتَين (1). هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين. وقد وَصَلَه جعفر بن ميمون عن أبي عثمان النَّهْدي:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ اس بات سے حیا فرماتا ہے کہ اس کا بندہ اس کے سامنے (سوال کے لیے) اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور ان میں کسی بھلائی کی التجا کرے اور اللہ ان دونوں ہاتھوں کو خالی اور نامراد واپس لوٹا دے۔“
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور اسے جعفر بن میمون نے ابو عثمان النہدی کے واسطے سے متصل (موصول) بیان کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) ما بين معقوفين سقط من النسخ الخطية، واستدركناه من رواية يزيد بن هارون عند غير المصنف.
فنی نکتہ: بریکٹ [ ] کے درمیان والی عبارت خطی نسخوں سے ساقط تھی، جسے ہم نے یزید بن ہارون کی دیگر روایات سے مکمل کیا ہے۔
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل عامر بن يساف، وقد ذكرنا حاله فيما سلف برقم (1409)، وقال الذهبي في "تلخيصه": عامر ذو مناكير.
صحیح لغیرہ: یہ روایت صحیح لغیرہ ہے، اور عامر بن يساف کی وجہ سے یہ سند متابعات و شواہد میں "حسن" ہے۔ ان کے حالات پیچھے نمبر (1409) پر گزر چکے ہیں۔
راوی پر جرح: امام ذہبی نے "تلخیص" میں کہا کہ عامر منکر روایتیں بیان کرنے والا (ذو مناکير) ہے۔
وهذا الحديث بهذا الإسناد الظاهر أنه من أفراد المصنف، فلم نقف على من أخرجه من طريق حفص بن عمر عن أنس غيره.
اہم نکتہ / خلاصہ: بظاہر یہ سند مصنف (حاکم) کے افراد (منفردات) میں سے ہے، کیونکہ ہمیں حفص بن عمر عن انسؓ کے طریق سے مصنف کے علاوہ کوئی اور نہیں ملا جو اسے روایت کرے۔
وقد روي الحديث من غير وجه عن أنس، لكنها طرق لا يفرح بها.
علّت / فنی نکتہ: حضرت انسؓ سے یہ حدیث دیگر کئی طریقوں سے مروی ہے، لیکن وہ ایسی سندیں نہیں ہیں جن پر خوش ہوا جائے (یعنی سب میں ضعف ہے)۔
فقد أخرجه معمر في "الجامع" (19648) - وعنه عبد الرزاق في "المصنف" (3250)، ومن طريق عبد الرزاق أخرجه البغوي في "شرح السنة" (1386) - وأخرجه أبو نعيم في "الحلية" 8/ 131 من طريق الفضيل بن عياض، كلاهما (معمر والفضيل) عن أبان بن أبي عياش، عن أنس. وأبان متروك. قال أبو نعيم: كذا رواه الفضيل عن أبان، وهو غريب مشهور من حديث أبي عثمان النهدي عن سلمان .. ثم قال: وأبان بن أبي عياش لا يصح حديثه لأنه كان نهمًا بالعبادة، والحديث ليس من شأنه.
حوالہ / مصدر: اسے معمر نے 'الجامع' میں، عبدالرزاق نے 'المصنف' (3250) میں اور ابونعیم نے 'الحلیہ' (8/131) میں ابان بن ابی عیاش عن انسؓ کی سند سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: ابان "متروک" راوی ہے۔ ابونعیم کے مطابق ابان کی روایت ضعیف ہے کیونکہ وہ عبادت میں بہت مشغول رہتے تھے اور حدیث ان کا خاص فن نہ تھا۔
وأخرجه أبو يعلى (4108) - وعنه ابن عدي في "الكامل" 4/ 61 - عن إبراهيم بن الحجاج السامي، عن صالح بن بشير المرّي، عن ثابت ويزيد الرقاشي وميمون بن سياه عن أنس. وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح المرّي.
حوالہ / مصدر: اسے ابویعلیٰ (4108) اور ابن عدی نے صالح بن بشیر المری کے طریق سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: صالح المری کے ضعف کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الدعاء" (204) عن المقدام بن داود، عن حبيب بن أبي حبيب كاتب مالك بن أنس، عن هشام بن سعد، عن ربيعة بن أبي عبد الرحمن، عن أنس. وهذا إسناد ضعيف جدًّا، حبيب كاتب مالك متروك، بل كذبه بعضهم.
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے 'الدعاء' (204) میں حبیب بن ابی حبیب (کاتبِ مالک) کے طریق سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ سند "سخت ضعیف" ہے کیونکہ حبیب "متروک" ہے بلکہ بعض نے اسے جھوٹا کہا ہے۔
وبهذا الإسناد أخرج الطبراني في "الدعاء" أيضًا (205) عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا دعا العبد فرفع يديه فسأله، قال الله ﷿: إني لأستحي من عبدي أن أرده".
حوالہ / مصدر: طبرانی نے اسی سند سے ایک اور روایت (205) نقل کی ہے کہ: "جب بندہ ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: مجھے اپنے بندے سے حیا آتی ہے کہ میں اسے (خالی) لوٹا دوں"۔
ويشهد له حديث سلمان السالف قبله.
متابعات و شواہد: حضرت سلمانؓ کی سابقہ حدیث اس کے لیے شاہد ہے۔
فنی نکتہ: بریکٹ [ ] کے درمیان والی عبارت خطی نسخوں سے ساقط تھی، جسے ہم نے یزید بن ہارون کی دیگر روایات سے مکمل کیا ہے۔
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل عامر بن يساف، وقد ذكرنا حاله فيما سلف برقم (1409)، وقال الذهبي في "تلخيصه": عامر ذو مناكير.
صحیح لغیرہ: یہ روایت صحیح لغیرہ ہے، اور عامر بن يساف کی وجہ سے یہ سند متابعات و شواہد میں "حسن" ہے۔ ان کے حالات پیچھے نمبر (1409) پر گزر چکے ہیں۔
راوی پر جرح: امام ذہبی نے "تلخیص" میں کہا کہ عامر منکر روایتیں بیان کرنے والا (ذو مناکير) ہے۔
وهذا الحديث بهذا الإسناد الظاهر أنه من أفراد المصنف، فلم نقف على من أخرجه من طريق حفص بن عمر عن أنس غيره.
اہم نکتہ / خلاصہ: بظاہر یہ سند مصنف (حاکم) کے افراد (منفردات) میں سے ہے، کیونکہ ہمیں حفص بن عمر عن انسؓ کے طریق سے مصنف کے علاوہ کوئی اور نہیں ملا جو اسے روایت کرے۔
وقد روي الحديث من غير وجه عن أنس، لكنها طرق لا يفرح بها.
علّت / فنی نکتہ: حضرت انسؓ سے یہ حدیث دیگر کئی طریقوں سے مروی ہے، لیکن وہ ایسی سندیں نہیں ہیں جن پر خوش ہوا جائے (یعنی سب میں ضعف ہے)۔
فقد أخرجه معمر في "الجامع" (19648) - وعنه عبد الرزاق في "المصنف" (3250)، ومن طريق عبد الرزاق أخرجه البغوي في "شرح السنة" (1386) - وأخرجه أبو نعيم في "الحلية" 8/ 131 من طريق الفضيل بن عياض، كلاهما (معمر والفضيل) عن أبان بن أبي عياش، عن أنس. وأبان متروك. قال أبو نعيم: كذا رواه الفضيل عن أبان، وهو غريب مشهور من حديث أبي عثمان النهدي عن سلمان .. ثم قال: وأبان بن أبي عياش لا يصح حديثه لأنه كان نهمًا بالعبادة، والحديث ليس من شأنه.
حوالہ / مصدر: اسے معمر نے 'الجامع' میں، عبدالرزاق نے 'المصنف' (3250) میں اور ابونعیم نے 'الحلیہ' (8/131) میں ابان بن ابی عیاش عن انسؓ کی سند سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: ابان "متروک" راوی ہے۔ ابونعیم کے مطابق ابان کی روایت ضعیف ہے کیونکہ وہ عبادت میں بہت مشغول رہتے تھے اور حدیث ان کا خاص فن نہ تھا۔
وأخرجه أبو يعلى (4108) - وعنه ابن عدي في "الكامل" 4/ 61 - عن إبراهيم بن الحجاج السامي، عن صالح بن بشير المرّي، عن ثابت ويزيد الرقاشي وميمون بن سياه عن أنس. وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح المرّي.
حوالہ / مصدر: اسے ابویعلیٰ (4108) اور ابن عدی نے صالح بن بشیر المری کے طریق سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: صالح المری کے ضعف کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الدعاء" (204) عن المقدام بن داود، عن حبيب بن أبي حبيب كاتب مالك بن أنس، عن هشام بن سعد، عن ربيعة بن أبي عبد الرحمن، عن أنس. وهذا إسناد ضعيف جدًّا، حبيب كاتب مالك متروك، بل كذبه بعضهم.
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے 'الدعاء' (204) میں حبیب بن ابی حبیب (کاتبِ مالک) کے طریق سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ سند "سخت ضعیف" ہے کیونکہ حبیب "متروک" ہے بلکہ بعض نے اسے جھوٹا کہا ہے۔
وبهذا الإسناد أخرج الطبراني في "الدعاء" أيضًا (205) عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا دعا العبد فرفع يديه فسأله، قال الله ﷿: إني لأستحي من عبدي أن أرده".
حوالہ / مصدر: طبرانی نے اسی سند سے ایک اور روایت (205) نقل کی ہے کہ: "جب بندہ ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: مجھے اپنے بندے سے حیا آتی ہے کہ میں اسے (خالی) لوٹا دوں"۔
ويشهد له حديث سلمان السالف قبله.
متابعات و شواہد: حضرت سلمانؓ کی سابقہ حدیث اس کے لیے شاہد ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1851 سے ماخوذ ہے۔