کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: قربانی کے لیے گائے خریدنے کا بیان۔
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا عمرو بن ميمون بن مِهْران، حدثنا أبو حاضرٍ عثمان بن حاضرٍ قال: سمعتُ ابن عباس يقول: إنَّ أهل الحُدَيبيَةِ أُمِروا بإبدال الهَدْي في العام الذي دخلوا فيه مكة، فأبدَلوا، وعزَّتِ الإبلُ، فرُخِّصَ لهم فيمن لا يجدُ بَدَنةً في اشتِراءِ بقرة (1). رواه محمد بن إسحاق بن يسار عن عمرو بن ميمون مفسَّرًا ملخَّصًا:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ صلحِ حدیبیہ کے موقع پر لوگوں کو حکم دیا گیا کہ جس سال وہ مکہ میں داخل ہوں اس سال (روکے جانے والے) ہدی کے جانوروں کا نعم البدل ذبح کریں، پس انہوں نے جانور بدلے، چونکہ اونٹ مہنگے اور نایاب ہو گئے تھے اس لیے انہیں رخصت دی گئی کہ جو اونٹ نہ پائے وہ گائے خرید کر ذبح کر لے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1805
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي، من أجل عثمان بن حاضر. سعيد بن مسعود: هو ابن عبد الرحمن المروزي.» [ترقيم الرساله 1805] [ترقيم الشركة 1791]
أخبرَناه أبو بكر محمد بن المُؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا النُّفَيلي، حدثنا محمد بن سَلَمة، عن محمد بن إسحاق، عن عمرو بن ميمون بن مِهْران قال: سمعتُ أبا حاضر الحِمْيَري يحدِّث أبي ميمونَ بن مِهْران قال: خرجتُ معتمرًا عامَ حاصَرَ أهلُ الشام ابنَ الزبير بمكة، وبَعَثَ معي رجالٌ من قومي بهديٍ، فلما انتهينا إلى أهل الشام مَنَعُونا أن ندخل الحرم، فنحرتُ الهدي مكاني وأحللتُ، ثم رجعتُ، فلما كان من العام المُقبِل خرجتُ لأقضيَ عُمرتي، فأتيتُ ابن عباس فسألته، فقال: أبدِلِ الهديَ، فإنَّ رسولَ الله ﷺ أَمَرَ أصحابه أن يُبدِلوا الهديَ الذي نَحَروا عام الحديبية في عُمْرة القضاء. قال عمرو: وكان أبي قد أهمَّه ذلك، يقول: لا أدري هل أبدلَ أصحابُ النبيِّ ﷺ الهديَ الذي نحروا بالحديبية في عمرة القضاء، أم لا، حتى حدَّثه أبو حاضر (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وأبو حاضر شيخٌ من أهل اليمن مقبولٌ صدوق.
حافظ طلحہ بابر
ابو حاضر الحمیری سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں اس سال عمرہ کے لیے نکلا جب اہل شام نے مکہ میں ابن زبیر کا محاصرہ کیا ہوا تھا، میری قوم کے کچھ لوگوں نے میرے ساتھ ہدی کے جانور بھیجے، جب ہم شامی لشکر کے پاس پہنچے تو انہوں نے ہمیں حرم میں داخل ہونے سے روک دیا، چنانچہ میں نے وہیں جانور ذبح کر دیے اور احرام کھول دیا، پھر اگلے سال میں اپنی قضا عمرہ کے لیے نکلا اور ابن عباس سے مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”ہدی کا جانور دوبارہ پیش کرو کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کو حکم دیا تھا کہ وہ حدیبیہ کے سال ذبح کیے گئے جانوروں کا نعم البدل عمرۃ القضا میں پیش کریں۔“ عمرو کہتے ہیں کہ میرے والد اس بات پر فکرمند رہتے تھے اور کہتے تھے کہ مجھے معلوم نہیں کہ صحابہ نے حدیبیہ کے جانوروں کا نعم البدل عمرۃ القضا میں دیا تھا یا نہیں، یہاں تک کہ ابو حاضر نے یہ حدیث بیان کی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، ابو حاضر اہل یمن کے مقبول اور سچے راوی ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1806
درجۂ حدیث محدثین: حديث قوي
تخریج حدیث «حديث قوي، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق - وهو ابن يسار - وقد صرَّح بالتحديث عند البيهقي في "الدلائل" فانتفت شبهة تدليسه، وقد توبع. النفيلي: هو عبد الله بن محمد، ومحمد بن سلمة: هو الباهلي.» [ترقيم الرساله 1806] [ترقيم الشركة 1792]