حدیث نمبر: 1806
أخبرَناه أبو بكر محمد بن المُؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا النُّفَيلي، حدثنا محمد بن سَلَمة، عن محمد بن إسحاق، عن عمرو بن ميمون بن مِهْران قال: سمعتُ أبا حاضر الحِمْيَري يحدِّث أبي ميمونَ بن مِهْران قال: خرجتُ معتمرًا عامَ حاصَرَ أهلُ الشام ابنَ الزبير بمكة، وبَعَثَ معي رجالٌ من قومي بهديٍ، فلما انتهينا إلى أهل الشام مَنَعُونا أن ندخل الحرم، فنحرتُ الهدي مكاني وأحللتُ، ثم رجعتُ، فلما كان من العام المُقبِل خرجتُ لأقضيَ عُمرتي، فأتيتُ ابن عباس فسألته، فقال: أبدِلِ الهديَ، فإنَّ رسولَ الله ﷺ أَمَرَ أصحابه أن يُبدِلوا الهديَ الذي نَحَروا عام الحديبية في عُمْرة القضاء. قال عمرو: وكان أبي قد أهمَّه ذلك، يقول: لا أدري هل أبدلَ أصحابُ النبيِّ ﷺ الهديَ الذي نحروا بالحديبية في عمرة القضاء، أم لا، حتى حدَّثه أبو حاضر (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وأبو حاضر شيخٌ من أهل اليمن مقبولٌ صدوق.
حافظ طلحہ بابر

ابو حاضر الحمیری سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں اس سال عمرہ کے لیے نکلا جب اہل شام نے مکہ میں ابن زبیر کا محاصرہ کیا ہوا تھا، میری قوم کے کچھ لوگوں نے میرے ساتھ ہدی کے جانور بھیجے، جب ہم شامی لشکر کے پاس پہنچے تو انہوں نے ہمیں حرم میں داخل ہونے سے روک دیا، چنانچہ میں نے وہیں جانور ذبح کر دیے اور احرام کھول دیا، پھر اگلے سال میں اپنی قضا عمرہ کے لیے نکلا اور ابن عباس سے مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”ہدی کا جانور دوبارہ پیش کرو کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کو حکم دیا تھا کہ وہ حدیبیہ کے سال ذبح کیے گئے جانوروں کا نعم البدل عمرۃ القضا میں پیش کریں۔“ عمرو کہتے ہیں کہ میرے والد اس بات پر فکرمند رہتے تھے اور کہتے تھے کہ مجھے معلوم نہیں کہ صحابہ نے حدیبیہ کے جانوروں کا نعم البدل عمرۃ القضا میں دیا تھا یا نہیں، یہاں تک کہ ابو حاضر نے یہ حدیث بیان کی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، ابو حاضر اہل یمن کے مقبول اور سچے راوی ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1806
درجۂ حدیث محدثین: حديث قوي
تخریج حدیث «حديث قوي، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق - وهو ابن يسار - وقد صرَّح بالتحديث عند البيهقي في "الدلائل" فانتفت شبهة تدليسه، وقد توبع. النفيلي: هو عبد الله بن محمد، ومحمد بن سلمة: هو الباهلي.» [ترقيم الرساله 1806] [ترقيم الشركة 1792]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث قوي، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق - وهو ابن يسار - وقد صرَّح بالتحديث عند البيهقي في "الدلائل" فانتفت شبهة تدليسه، وقد توبع. النفيلي: هو عبد الله بن محمد، ومحمد بن سلمة: هو الباهلي.
درجۂ حدیث: حدیث قوی ہے اور محمد بن اسحاق کی وجہ سے سند "حسن" ہے، انہوں نے بیہقی کے ہاں سماع کی تصریح کی ہے جس سے تدلیس کا شبہ ختم ہو گیا۔
فنی نکتہ: نفیلی سے مراد عبداللہ بن محمد اور محمد بن سلمہ باہلی ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1864) عن النفيلي، بهذا الإسناد. إلّا أنه لم يذكر قول عمرٍو في آخره: وكان أبي قد أهمه ذلك … إلى آخره.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1864) نے نفیلی سے روایت کیا ہے، مگر آخر میں عمرو کا قول ذکر نہیں کیا۔
وقول عمرو هذا أخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 4/ 319 - 320 ضمن هذا الحديث من طريق يونس بن بكير عن ابن إسحاق، به.
حوالہ / مصدر: عمرو کا یہ قول بیہقی کی 'دلائل النبوہ' (4/319) میں یونس بن بکیر عن ابن اسحاق کی سند سے موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1806 سے ماخوذ ہے۔