المستدرك على الصحيحين
أول كتاب المناسك— حج کا بیان
قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِمَكَّةَ : " مَا أَطْيَبَكِ مِنْ بَلْدَةٍ " باب: رسولُ اللہ ﷺ کا مکہ کے بارے میں فرمان: اے مکہ! تو کتنی پاکیزہ بستی ہے۔
حدیث نمبر: 1807
أخبرنا أبو جعفر محمد بن عليٍّ الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا زهير، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عباسٍ قال: قال رسولُ الله ﷺ لِمكَّةَ: "ما أطيَبَكِ من بلدةٍ، وأحبَّكِ إليَّ، ولولا أنَّ قومَكِ أَخرَجوني ما سكنتُ غيرَكِ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ کو مخاطب کر کے فرمایا: ”تو کتنا پاکیزہ شہر ہے اور تو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، اگر تیری قوم (قریش) نے مجھے یہاں سے نہ نکالا ہوتا تو میں تیرے سوا کہیں اور سکونت اختیار نہ کرتا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده قوي من أجل عبد الله بن عثمان بن خثيم. أبو نعيم: هو الفضل بن دكين، وزهير: هو ابن معاوية.
درجۂ حدیث: عبداللہ بن عثمان بن خثیم کی وجہ سے سند "قوی" ہے۔
فنی نکتہ: ابونعیم سے مراد فضل بن دکین اور زہیر سے مراد ابن معاویہ ہیں۔
وأخرجه الترمذي (3926)، وابن حبان (3709) من طريق الفضيل بن سليمان، عن عبد الله بن عثمان بن خثيم، بهذا الإسناد. وقَرَن الفضيل بسعيد بن جبير أبا الطفيل عامر بن واثلة، وقال الترمذي: حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (3926) اور ابن حبان نے فضیل بن سلیمان کے طریق سے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح غریب" کہا ہے۔
درجۂ حدیث: عبداللہ بن عثمان بن خثیم کی وجہ سے سند "قوی" ہے۔
فنی نکتہ: ابونعیم سے مراد فضل بن دکین اور زہیر سے مراد ابن معاویہ ہیں۔
وأخرجه الترمذي (3926)، وابن حبان (3709) من طريق الفضيل بن سليمان، عن عبد الله بن عثمان بن خثيم، بهذا الإسناد. وقَرَن الفضيل بسعيد بن جبير أبا الطفيل عامر بن واثلة، وقال الترمذي: حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (3926) اور ابن حبان نے فضیل بن سلیمان کے طریق سے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح غریب" کہا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1807 سے ماخوذ ہے۔