حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عيسى بن زيد بن عبد الجبار بن مالك التَّنُوخي بتِنِّيس، حدثنا عمرو بن أبي سَلَمة التِّنِّيسي، حدثنا زهير بن محمد المكي، عن موسى بن عُقْبة، عن سالم بن عبد الله: أنَّ عائشة كانت تقول: عجبًا للمَرْءِ المسلم إذ دَخَلَ الكعبة حتى يَرفَعَ بصَرَه قِبَلَ السقف، يَدَعُ ذلك إجلالًا لله وإعظامًا، دخل رسولُ الله ﷺ الكعبةَ ما خلَّفَ بصَرُه موضعَ سُجودِه حتى خَرَجَ منها (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ فرمایا کرتی تھیں: ”مسلمان شخص پر تعجب ہے کہ جب وہ کعبہ میں داخل ہوتا ہے تو اپنی نظر چھت کی طرف اٹھاتا ہے، حالانکہ اسے اللہ کی جلالت اور تعظیم کی خاطر اس سے گریز کرنا چاہیے، رسول اللہ ﷺ جب کعبہ میں داخل ہوئے تو وہاں سے نکلنے تک آپ کی نظر آپ کے مقامِ سجدہ سے آگے نہیں بڑھی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران بن خالد، حدثنا عبيد الله بن موسى، حدثنا إسماعيل بن عبد الملك، عن ابن أبي مُلَيكة، عن عائشة قالت: خَرَجَ رسول الله ﷺ من عندي وهو قَريرُ العين، طيِّبُ النفس، ثم رَجَعَ إليَّ وهو حزين، فقلتُ: يا رسولَ الله، خرجتَ من عندي وأنتَ كذا وكذا، قال: "إنِّي دخلتُ الكعبةَ ووَدِدْتُ أنِّي لم أكن فعلتُه، إني أخافُ أن أكونَ قد أتعبتُ أُمتي من بَعدي" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے تشریف لے گئے تو آپ ﷺ بہت خوش اور پرسکون تھے، پھر جب واپس آئے تو غمگین تھے، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ جب یہاں سے گئے تھے تو آپ کی حالت ایسی (خوشگوار) تھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں کعبہ کے اندر داخل ہوا تھا لیکن اب میری تمنا ہے کہ کاش میں ایسا نہ کرتا، کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ میں نے اپنے بعد اپنی امت کو مشقت میں نہ ڈال دیا ہو۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن بكر، حدثنا ابن جُرَيج قال: قلتُ لعطاء: أسمعتَ ابنَ عباس يقول: إنما أُمِرتم بالطواف ولم تُؤمَروا بدخوله؟ قال: لم يكن ينهانا عن دُخولِه، ولكن سمعتُه يقول: أخبَرَني أسامة بن زيد: أنَّ النبيَّ ﷺ دَخَلَ البيت، فلما خَرَجَ ركع ركعتين في قُبُل البيت، وقال: "هذه القِبلةُ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا!
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا!
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ نبی کریم ﷺ بیت اللہ میں داخل ہوئے، پھر جب باہر تشریف لائے تو بیت اللہ کے سامنے دو رکعت نماز ادا فرمائی اور ارشاد فرمایا: «هَذِهِ الْقِبْلَةُ» ”یہ قبلہ ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا!
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا!