حدیث نمبر: 1782
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران بن خالد، حدثنا عبيد الله بن موسى، حدثنا إسماعيل بن عبد الملك، عن ابن أبي مُلَيكة، عن عائشة قالت: خَرَجَ رسول الله ﷺ من عندي وهو قَريرُ العين، طيِّبُ النفس، ثم رَجَعَ إليَّ وهو حزين، فقلتُ: يا رسولَ الله، خرجتَ من عندي وأنتَ كذا وكذا، قال: "إنِّي دخلتُ الكعبةَ ووَدِدْتُ أنِّي لم أكن فعلتُه، إني أخافُ أن أكونَ قد أتعبتُ أُمتي من بَعدي" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے تشریف لے گئے تو آپ ﷺ بہت خوش اور پرسکون تھے، پھر جب واپس آئے تو غمگین تھے، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ جب یہاں سے گئے تھے تو آپ کی حالت ایسی (خوشگوار) تھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں کعبہ کے اندر داخل ہوا تھا لیکن اب میری تمنا ہے کہ کاش میں ایسا نہ کرتا، کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ میں نے اپنے بعد اپنی امت کو مشقت میں نہ ڈال دیا ہو۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1782
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف إسماعيل بن عبد الملك: وهو ابن أبي الصُّفير الأسدي. ابن أبي مليكة: هو عبد الله بن عبيد الله.» [ترقيم الرساله 1782] [ترقيم الشركة 1768]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف لضعف إسماعيل بن عبد الملك: وهو ابن أبي الصُّفير الأسدي. ابن أبي مليكة: هو عبد الله بن عبيد الله.
درجۂ حدیث: اسماعیل بن عبدالملک (ابن ابی الصفیر) کے ضعف کی وجہ سے یہ سند "ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ: ابن ابی ملیکہ سے مراد عبداللہ بن عبید اللہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 41/ (25056)، وابن ماجه (3064)، والترمذي (873) من طريق وكيع، وأبو داود (2029) من طريق عبد الله بن داود، كلاهما عن إسماعيل بن عبد الملك، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (41/25056)، ابن ماجہ (3064)، ترمذی (873) اور ابوداؤد (2029) نے وکیع اور عبداللہ بن داؤد کے واسطے سے اسماعیل بن عبدالملک کی سند سے روایت کیا ہے۔
وروي بنحوه من وجه آخر لا يفرح به عن عائشة، أخرجه أحمد 42/ (25197) من طريق جابر بن يزيد الجعفي عن عرفجة عنها. وجابر الجعفي هذا لا يصلح في المتابعات، والله أعلم.
متابعات و شواہد: حضرت عائشہؓ سے ایک اور طریق سے بھی اس طرح کی روایت مروی ہے مگر جابر الجعفی کے ضعف کی وجہ سے وہ قابلِ اعتبار نہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1782 سے ماخوذ ہے۔