حدیث نمبر: 1784
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا جَرير بن حازمٍ قال: سمعتُ يزيد بن رُومانَ يحدِّث عن عبد الله بن الزُبير قال: قالت عائشة: قال لي رسول الله ﷺ: "يا عائشةُ، لولا أنَّ قومَكِ حديثُ عهدٍ بجاهليةٍ، لهَدَمْتُ البيت حتَّى أُدخِل فيه ما أَخرَجوا منه في الحِجْر، فإنهم عَجَزوا عن نفقتِه، وجعلتُ لها بابَين: بابًا شرقيًّا، وبابًا غربيًّا، وألصَقْتُه بالأرض، ولَوَضعتُه على أساسِ إبراهيم". قال: فكان الذي دعا ابنَ الزُّبير على هَدْمِه وبنائِه. قال يزيد بن رُومان: فشهدتُ ابنَ الزُّبير حين هَدَمَه، فاستخرَجَ أساسَ البيت كأسْنِمة البُخْت متلاحكةً (1)، قال جَرير: فقلتُ ليزيدَ بن رُومان - فأنا يومئذٍ أطوفُ معه -: أَرِني ما أَخرَجوا من الحِجْر منه، قال: أُرِيكَه الآن، فلما انتهى إليه قال: هذا الموضعُ. قال أبي (2): فحَزَرتُه نحوًا من ستة أذرُع (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا.
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے عائشہ! اگر تمہاری قوم کا زمانہ جاہلیت قریب نہ ہوتا تو میں بیت اللہ کو منہدم کر دیتا اور حطیم کا وہ حصہ بھی اس میں شامل کر دیتا جو انہوں نے باہر چھوڑ دیا ہے، کیونکہ وہ اس کی تعمیر کے خرچ سے عاجز آ گئے تھے، اور میں اس کے دو دروازے بنا دیتا: ایک مشرقی اور ایک مغربی، اور اسے زمین کے برابر کر دیتا اور اسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر تعمیر کرتا۔“ یہی وہ بات تھی جس نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو بیت اللہ گرانے اور دوبارہ تعمیر کرنے پر ابھارا۔ یزید بن رومان کہتے ہیں کہ میں ابن زبیر کے وقت موجود تھا جب انہوں نے اسے منہدم کیا تو کعبہ کی بنیادیں بختی اونٹ کے کوہان کی طرح ایک دوسرے میں پیوست ظاہر ہوئیں۔ جریر کہتے ہیں کہ میں نے یزید بن رومان سے پوچھا— جبکہ میں اس وقت ان کے ساتھ طواف کر رہا تھا— کہ مجھے وہ جگہ دکھائیں جو انہوں نے حطیم سے اندر شامل کی تھی، انہوں نے کہا کہ میں تمہیں ابھی دکھاتا ہوں، پس جب وہ وہاں پہنچے تو کہا: یہ وہ جگہ ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کا اندازہ تقریباً چھ ہاتھ تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1784
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 1784] [ترقيم الشركة 1770]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) المتلاحكة: هي المتلائمة والمتداخلة، كما في "لسان العرب" مادة (لحك).
توضیح: "المتلاحكة" کا مطلب ہے آپس میں پیوست اور ایک دوسرے میں داخل ہونے والی چیز۔
(2) القائل "قال أبي": هو وهب بن جرير، فقد روى هذا الحديث عن أبيه كما عند إسحاق بن راهويه في "مسنده" (551)، وابن خزيمة في "صحيحه" (3020)، وابن حبان (3816)، فالذي يظهر أنه دخل على المصنف لفظ حديث يزيد بن هارون بحديث وهب بن جرير، والله أعلم.
فنی نکتہ: قول "قال أبي" کہنے والے وہب بن جریر ہیں جنہوں نے اپنے والد جریر بن حازم سے روایت کی ہے؛ بظاہر مصنف کے ہاں یزید بن ہارون کی حدیث کے الفاظ وہب بن جریر کی حدیث کے ساتھ گڈ مڈ ہو گئے ہیں۔
(3) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه ابن حبان (3816) من طريق وهب بن جرير، عن جرير بن حازم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (3816) نے وہب بن جریر عن جریر بن حازم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه مطولًا ومختصرًا أحمد 42/ (25463) و (25466)، ومسلم (1333) (401)، وابن حبان (3818) من طريق سعيد بن ميناء، والنسائي (3879) من طريق عطاء، كلاهما عن ابن الزبير، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، مسلم (1333)، ابن حبان اور نسائی نے سعید بن میناء اور عطا کے طریقوں سے ابن الزبیرؓ کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وخالف الحارثَ بنَ أبي أسامة جمعٌ، فرووه عن يزيد بن هارون، بهذا الإسناد، لكنهم جعلوه من طريق عروة بن الزبير عن عائشة، بدلًا من عبد الله، فقد أخرجه أحمد 43/ (26029)، وأخرجه البخاري (1586) عن بيان بن عمرو، والنسائي (3872) عن عبد الرحمن بن محمد الطرسوسي، ثلاثتهم (أحمد وبيان وعبد الرحمن) عن يزيد بن هارون، عن جرير، عن يزيد بن رومان، عن عروة بن الزبير، عن عائشة.
سندی اختلاف: حارث بن ابی اسامہ کے برعکس ایک جماعت نے اسے یزید بن ہارون سے روایت کیا ہے مگر انہوں نے اسے عبداللہ بن زبیرؓ کے بجائے عروہ بن زبیر عن عائشہؓ کی مسند سے بیان کیا ہے۔
وذكر ابن خزيمة (3021)، والبيهقي 5/ 90 أنَّ يزيد بن رومان ربما سمع الخبر من عبد الله وعروة جميعًا. والذي ذهب إليه ابن حجر في "الفتح" 5/ 368 أنَّ رواية الجماعة أوضح، فهي أصح. وصحَّح الدارقطني في "العلل" 15/ 6 (3802) رواية من قال: عبد الله بن الزبير.
اہم نکتہ / خلاصہ: ابن خزیمہ اور بیہقی کے مطابق یزید بن رومان نے شاید عبداللہ اور عروہ دونوں سے سنا تھا، مگر حافظ ابن حجر کے نزدیک جماعت کی روایت (عروہ عن عائشہ) زیادہ اصح ہے، جبکہ دارقطنی نے 'عبداللہ بن زبیر' والی سند کو صحیح کہا ہے۔
وأخرجه أحمد 40/ (24297)، والبخاري (1585)، ومسلم (1333) (398)، والنسائي (3871) من طريق هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (40/24297)، بخاری (1585)، مسلم اور نسائی نے ہشام بن عروہ عن ابیہ عن عائشہؓ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وروي الحديث من غير وجه عن عائشة، انظر تخريجنا لـ "مسند أحمد" (24297).
متابعات و شواہد: حضرت عائشہؓ سے یہ حدیث دیگر کئی طریقوں سے مروی ہے جس کی تفصیل 'مسند احمد' کی تخریج (24297) میں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1784 سے ماخوذ ہے۔