حدیث نمبر: 1751
أخبرنا أحمد بن سَهْل بن حَمْدَوَيهِ الفقيه ببُخارَى، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا هُشيم، عن ابن عَوْن، عن القاسم بن محمد، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ قال لها في عُمْرتِها: "إِنَّ لكِ من الأجر على قَدْرِ نَصَبِكِ ونَفَقَتِكِ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! وله شاهد صحيح:
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے ان کے عمرہ کے بارے میں فرمایا: ”بلاشبہ تمہارے لیے تمہاری مشقت اور تمہارے خرچ کے مطابق اجر ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا! اور اس کا ایک صحیح شاہد بھی موجود ہے:

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1751
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،سعيد بن سليمان: هو الضبي الواسطي، وابن عون: هو عبد الله بن عون بن أرطبان، والقاسم بن محمد: هو ابن أبي بكر الصديق.» [ترقيم الرساله 1751] [ترقيم الشركة 1739]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. سعيد بن سليمان: هو الضبي الواسطي، وابن عون: هو عبد الله بن عون بن أرطبان، والقاسم بن محمد: هو ابن أبي بكر الصديق.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: سعید بن سلیمان سے مراد الضبی الواسطی، ابن عون سے مراد عبد اللہ بن عون اور القاسم بن محمد سے مراد ابن ابی بکر الصدیق ہیں۔
وهو قطعة من حديث عائشة في حيضتها في الحج، وعمرتها من التنعيم.
تفصیلِ روایت: یہ حضرت عائشہؓ کی اس طویل حدیث کا ایک ٹکڑا ہے جو ان کے حج کے دوران حیض آنے اور پھر تنعیم سے عمرہ کرنے کے متعلق ہے۔
وأخرجه هكذا مختصرًا أحمد 40/ (24159)، والبخاري (1787)، ومسلم (1211) (126) و (127) من طرق عن ابن عون، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے اسی طرح مختصراً امام احمد (40/24159)، بخاری (1787) اور مسلم (1211) نے ابن عون کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ: امام حاکم کا اسے "استدراک" کرنا (صحیحین کی شرط پر زائد سمجھنا) ان کا سہو (بھول) ہے کیونکہ یہ پہلے سے صحیحین میں موجود ہے۔
وانظر ما بعده.
ہدایت: اگلی روایت ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1751 سے ماخوذ ہے۔