المستدرك على الصحيحين
أول كتاب المناسك— حج کا بیان
مَنْ كُسِرَ أَوْ عُرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ الْحَجُّ فِي قَابِلٍ باب: جو ٹوٹ جانے یا لنگڑا ہونے کی وجہ سے (احرام سے) کھل جائے، اس پر آئندہ سال حج لازم ہے۔
حدیث نمبر: 1744
أخبرنا أبو بكر بن أبي دارِم الحافظ بالكوفة، حدثنا محمد بن عثمان بن محمد العَبْسي، حدثنا أبي، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا سفيان الثَّوري، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جابرٍ قال: حَجَّ النبيُّ ﷺ حَجَّتينِ قبلَ أن يُهاجِر - يعني - وحَجَّ بعدما هاجَرَ حَجَّةً قَرَنَ معها عُمرةً (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہجرت سے قبل دو حج کیے اور ہجرت کے بعد ایک حج کیا جس میں آپ ﷺ نے حج کے ساتھ عمرہ ملایا تھا (یعنی حجِ قران کیا تھا)۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح، أبو بكر بن أبي دارم متكلم فيه، لكنه قد توبع. جعفر بن محمد: هو ابن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب، وهو جعفر الصادق.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے۔ ابوبکر بن ابی دارم اگرچہ کلام زدہ ہیں مگر یہاں ان کی متابعت موجود ہے۔
فنی نکتہ: جعفر بن محمد سے مراد امام جعفر صادق ہیں۔
وقد أعلَّ البخاري هذا الحديث فيما نقله عنه الترمذي في "جامعه" بإثر (815)، والبيهقي في "سننه الكبرى" 5/ 12 بما حاصله: أنَّ زيد بن الحباب أخطأ فيه، وأنَّ المحفوظ رواية الثوري له عن أبي إسحاق عن مجاهد مرسلًا، وأقرَّ كلٌّ من الترمذي والبيهقي الإمامَ البخاريَّ فيما نقلاه عنه، لكن صحَّح ابنُ خزيمة هذا الخبر في "صحيحه" (3056)، ثم ذكر بعده ترجمة أخرى قال
فيها: باب ذكر الدليل على صحة هذا المتن، والبيان أنَّ النبي ﷺ قد حجَّ قبل هجرته إلى المدينة، لا كما من طعن في هذا الخبر وادَّعى أنَّ هذا الخبر لم يروه غير زيد بن الحباب، ثم ذكر حديث جبير بن مُطعِم أنه رأى رسول الله ﷺ قبل أن يُنزَل عليه وإنه لَواقفٌ على بعيرٍ له بعرفات مع الناس يدفع معهم.
علّت / فنی نکتہ: امام بخاری نے اس روایت پر جرح کی ہے کہ زید بن الحباب کو اس میں وہم ہوا ہے اور محفوظ بات یہ ہے کہ یہ روایت سفیان ثوری عن ابی اسحاق عن مجاہد سے "مرسل" ہے۔
اہم نکتہ / خلاصہ: ابن خزیمہ نے اس خبر کو صحیح قرار دیا ہے اور دلیل دی ہے کہ نبی ﷺ نے ہجرت سے پہلے حج کیے تھے، جیسا کہ جبیر بن مطعمؓ کی گواہی سے ثابت ہے کہ انہوں نے آپ ﷺ کو عرفات میں وقوف کرتے دیکھا تھا۔
وأجاب ابن كثير في "البداية والنهاية" 7/ 473 بجواب مكين أيضًا، وهو أنَّ ابن ماجه رواه من طريق عبد الله بن داود الخريبي عن سفيان الثوري. ثم قال ابن كثير: وهذه الطريق لم يقف عليها الترمذي ولا البيهقي، وربما ولا البخاري حيث تكلم في زيد بن الحُباب ظانًا أنه انفرد به، وليس كذلك.
تحقیقی دفاع: حافظ ابن کثیر نے 'البدایہ والنہایہ' (7/473) میں مضبوط جواب دیا کہ امام ابن ماجہ نے اسے عبد اللہ بن داؤد الخریبی کے واسطے سے سفیان ثوری سے روایت کیا ہے (جو زید بن الحباب کے علاوہ ہیں)۔ بظاہر امام بخاری، ترمذی اور بیہقی کو الخریبی والے اس طریق کا علم نہیں ہو سکا تھا۔
قلنا: وهو كما قال ابن كثير، وسيأتي الحديث من طريق الخُريبي برقم (4430)، وإذا انضم إليه حديث جبير بن مطعم الذي سلف عند المصنف برقم (1722) صح الخبر بيقين، ثم إنَّ سفيان الثوري كان واسع الرواية فلا تُعِلُّ إحدى روايتيه الرواية الأخرى، والله أعلم.
اہم نکتہ / خلاصہ: جیسا کہ ابن کثیر نے کہا، یہ روایت آگے نمبر (4430) پر الخریبی کے طریق سے آئے گی، اور جب اسے جبیر بن مطعمؓ کی سابقہ روایت (1722) کے ساتھ ملایا جائے تو یہ خبر یقینی طور پر صحیح ثابت ہوتی ہے۔ سفیان ثوری کی وسعتِ علمی کی وجہ سے ان کی ایک روایت دوسری کے منافی نہیں۔
وأخرجه الترمذي (815) عن عبد الله بن أبي زياد القطواني، عن زيد بن الحباب، بهذا الإسناد، بأطول مما هنا بنحو لفظ الخريبي الآتي عند المصنِّف.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (815) نے زید بن الحباب کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ یہاں سے زیادہ تفصیلی الفاظ میں روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے۔ ابوبکر بن ابی دارم اگرچہ کلام زدہ ہیں مگر یہاں ان کی متابعت موجود ہے۔
فنی نکتہ: جعفر بن محمد سے مراد امام جعفر صادق ہیں۔
وقد أعلَّ البخاري هذا الحديث فيما نقله عنه الترمذي في "جامعه" بإثر (815)، والبيهقي في "سننه الكبرى" 5/ 12 بما حاصله: أنَّ زيد بن الحباب أخطأ فيه، وأنَّ المحفوظ رواية الثوري له عن أبي إسحاق عن مجاهد مرسلًا، وأقرَّ كلٌّ من الترمذي والبيهقي الإمامَ البخاريَّ فيما نقلاه عنه، لكن صحَّح ابنُ خزيمة هذا الخبر في "صحيحه" (3056)، ثم ذكر بعده ترجمة أخرى قال
فيها: باب ذكر الدليل على صحة هذا المتن، والبيان أنَّ النبي ﷺ قد حجَّ قبل هجرته إلى المدينة، لا كما من طعن في هذا الخبر وادَّعى أنَّ هذا الخبر لم يروه غير زيد بن الحباب، ثم ذكر حديث جبير بن مُطعِم أنه رأى رسول الله ﷺ قبل أن يُنزَل عليه وإنه لَواقفٌ على بعيرٍ له بعرفات مع الناس يدفع معهم.
علّت / فنی نکتہ: امام بخاری نے اس روایت پر جرح کی ہے کہ زید بن الحباب کو اس میں وہم ہوا ہے اور محفوظ بات یہ ہے کہ یہ روایت سفیان ثوری عن ابی اسحاق عن مجاہد سے "مرسل" ہے۔
اہم نکتہ / خلاصہ: ابن خزیمہ نے اس خبر کو صحیح قرار دیا ہے اور دلیل دی ہے کہ نبی ﷺ نے ہجرت سے پہلے حج کیے تھے، جیسا کہ جبیر بن مطعمؓ کی گواہی سے ثابت ہے کہ انہوں نے آپ ﷺ کو عرفات میں وقوف کرتے دیکھا تھا۔
وأجاب ابن كثير في "البداية والنهاية" 7/ 473 بجواب مكين أيضًا، وهو أنَّ ابن ماجه رواه من طريق عبد الله بن داود الخريبي عن سفيان الثوري. ثم قال ابن كثير: وهذه الطريق لم يقف عليها الترمذي ولا البيهقي، وربما ولا البخاري حيث تكلم في زيد بن الحُباب ظانًا أنه انفرد به، وليس كذلك.
تحقیقی دفاع: حافظ ابن کثیر نے 'البدایہ والنہایہ' (7/473) میں مضبوط جواب دیا کہ امام ابن ماجہ نے اسے عبد اللہ بن داؤد الخریبی کے واسطے سے سفیان ثوری سے روایت کیا ہے (جو زید بن الحباب کے علاوہ ہیں)۔ بظاہر امام بخاری، ترمذی اور بیہقی کو الخریبی والے اس طریق کا علم نہیں ہو سکا تھا۔
قلنا: وهو كما قال ابن كثير، وسيأتي الحديث من طريق الخُريبي برقم (4430)، وإذا انضم إليه حديث جبير بن مطعم الذي سلف عند المصنف برقم (1722) صح الخبر بيقين، ثم إنَّ سفيان الثوري كان واسع الرواية فلا تُعِلُّ إحدى روايتيه الرواية الأخرى، والله أعلم.
اہم نکتہ / خلاصہ: جیسا کہ ابن کثیر نے کہا، یہ روایت آگے نمبر (4430) پر الخریبی کے طریق سے آئے گی، اور جب اسے جبیر بن مطعمؓ کی سابقہ روایت (1722) کے ساتھ ملایا جائے تو یہ خبر یقینی طور پر صحیح ثابت ہوتی ہے۔ سفیان ثوری کی وسعتِ علمی کی وجہ سے ان کی ایک روایت دوسری کے منافی نہیں۔
وأخرجه الترمذي (815) عن عبد الله بن أبي زياد القطواني، عن زيد بن الحباب، بهذا الإسناد، بأطول مما هنا بنحو لفظ الخريبي الآتي عند المصنِّف.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (815) نے زید بن الحباب کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ یہاں سے زیادہ تفصیلی الفاظ میں روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1744 سے ماخوذ ہے۔