المستدرك على الصحيحين
أول كتاب المناسك— حج کا بیان
مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ باب: مِنیٰ جس نے پہلے جگہ لی وہی اس کا حق دار ہے۔
حدیث نمبر: 1733
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، حدثنا محمد بن إسحاق. وحدثنا علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا عيّاش بن الوليد الرَّقّام، حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى، عن محمد بن إسحاق، حدثني عبد الله بن أبي نَجِيح، عن مجاهد، عن ابن عباس قال: أَهدَى رسولُ الله ﷺ عامَ الحُدَيبية في هداياهُ جَمَلًا لأبي جَهْل، في رأسه بُرَةٌ من فضَّة، لِيَغيظَ المشركين بذلك (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ والے سال اپنی قربانی کے جانوروں میں ابوجہل کا ایک اونٹ بھی پیش کیا جس کے ناک کے چھلے (نکیل) میں چاندی جڑی ہوئی تھی، تاکہ اس کے ذریعے مشرکین کو زچ کریں (ان کے غصے کا باعث بنیں)۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث حسن، رغم تصريح ابن إسحاق هنا بالتحديث، فقد نقل المصنف نفسه في "معرفة علوم الحديث" ص 107 عن علي بن المديني أنه قال: حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن
سعد، عن أبيه، عن محمد بن إسحاق قال: حدثني من لا أتّهم عن ابن أبي نجيح، عن مجاهد، عن ابن عباس. قلنا: لكن ابن إسحاق قد توبع.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "حسن" ہے۔ اگرچہ ابن اسحاق کے استاد مبہم ہیں (یعنی جس پر میں تہمت نہیں رکھتا) مگر ابن اسحاق کی یہاں متابعت موجود ہے جس سے سند کو تقویت ملتی ہے۔
وأخرجه أحمد 4/ (2362) من طريق إبراهيم بن سعد الزهري، وأبو داود (1749) من طريق محمد بن سلمة ويزيد بن زريع، ثلاثتهم عن محمد بن إسحاق، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (4/2362) اور ابوداؤد (1749) نے محمد بن اسحاق کی اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ووقع في رواية يزيد بن زريع: برة من ذهب.
فنی نکتہ: یزید بن زریع کی روایت میں "سونے کا چھلا" (برة من ذهب) کے الفاظ آئے ہیں۔
وأخرجه أحمد 4/ (2466) من طريق جرير بن حازم، عن ابن أبي نجيح، به. قال البيهقي 5/ 230: وهذا إسناد صحيح، إلّا أنهم يرون أنَّ جرير بن حازم أخذه من محمد بن إسحاق ثم دلّسه، فإن بُيِّن فيه سماع جرير من ابن أبي نجيح صار الحديث صحيحًا، والله أعلم.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (4/2466) نے جریر بن حازم عن ابن ابی نجیح کے طریق سے روایت کیا ہے۔ بیہقی کے مطابق یہ سند صحیح ہو سکتی ہے بشرطیکہ جریر کا ابن ابی نجیح سے سماع ثابت ہو جائے (کیونکہ تدلیس کا شبہ ہے)۔
وسيأتي الحديث بنحوه برقم (4430) من طريق سفيان الثوري، يرويه عن الحكم بن عتيبة عن ابن أبي ليلى عن مقسم عن ابن عباس، ويرويه أيضًا عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جابر.
تکرار: اس جیسی روایت آگے نمبر (4430) پر سفیان ثوری کے طریق سے ابن عباسؓ اور جابرؓ کی مسند سے آئے گی۔
قوله: "بُرة من فضة" قال ابن الأثير في "النهاية": البُرَة: حلقة تجعل في لحم الأنف، وربما كانت من شعر.
توضیح: "بُرہ" سے مراد وہ چھلا ہے جو جانور کی ناک کے گوشت میں ڈالا جاتا ہے، یہ چاندی یا بالوں کا بھی ہو سکتا ہے۔
سعد، عن أبيه، عن محمد بن إسحاق قال: حدثني من لا أتّهم عن ابن أبي نجيح، عن مجاهد، عن ابن عباس. قلنا: لكن ابن إسحاق قد توبع.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "حسن" ہے۔ اگرچہ ابن اسحاق کے استاد مبہم ہیں (یعنی جس پر میں تہمت نہیں رکھتا) مگر ابن اسحاق کی یہاں متابعت موجود ہے جس سے سند کو تقویت ملتی ہے۔
وأخرجه أحمد 4/ (2362) من طريق إبراهيم بن سعد الزهري، وأبو داود (1749) من طريق محمد بن سلمة ويزيد بن زريع، ثلاثتهم عن محمد بن إسحاق، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (4/2362) اور ابوداؤد (1749) نے محمد بن اسحاق کی اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ووقع في رواية يزيد بن زريع: برة من ذهب.
فنی نکتہ: یزید بن زریع کی روایت میں "سونے کا چھلا" (برة من ذهب) کے الفاظ آئے ہیں۔
وأخرجه أحمد 4/ (2466) من طريق جرير بن حازم، عن ابن أبي نجيح، به. قال البيهقي 5/ 230: وهذا إسناد صحيح، إلّا أنهم يرون أنَّ جرير بن حازم أخذه من محمد بن إسحاق ثم دلّسه، فإن بُيِّن فيه سماع جرير من ابن أبي نجيح صار الحديث صحيحًا، والله أعلم.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (4/2466) نے جریر بن حازم عن ابن ابی نجیح کے طریق سے روایت کیا ہے۔ بیہقی کے مطابق یہ سند صحیح ہو سکتی ہے بشرطیکہ جریر کا ابن ابی نجیح سے سماع ثابت ہو جائے (کیونکہ تدلیس کا شبہ ہے)۔
وسيأتي الحديث بنحوه برقم (4430) من طريق سفيان الثوري، يرويه عن الحكم بن عتيبة عن ابن أبي ليلى عن مقسم عن ابن عباس، ويرويه أيضًا عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جابر.
تکرار: اس جیسی روایت آگے نمبر (4430) پر سفیان ثوری کے طریق سے ابن عباسؓ اور جابرؓ کی مسند سے آئے گی۔
قوله: "بُرة من فضة" قال ابن الأثير في "النهاية": البُرَة: حلقة تجعل في لحم الأنف، وربما كانت من شعر.
توضیح: "بُرہ" سے مراد وہ چھلا ہے جو جانور کی ناک کے گوشت میں ڈالا جاتا ہے، یہ چاندی یا بالوں کا بھی ہو سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1733 سے ماخوذ ہے۔