حدیث نمبر: 1616
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَكَّار بن قُتيبة القاضي، حدثنا صفوان بن عيسى القاضي، حدثنا أبو يونس حاتم بن أبي صَغيرة، عن سِمَاك بن حرب، عن أبي صالح، عن أم هانئ: أنَّ رسول الله ﷺ كان يقول: "الصائمُ المتطوِّعُ أميرُ نفسِه، إن شاء صامَ، وإن شاء أفطرَ" (2).
حافظ طلحہ بابر

سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”نفل روزہ رکھنے والا خود اپنا امیر (با اختیار) ہے، اگر چاہے تو روزہ پورا کرے اور اگر چاہے تو اسے افطار کر لے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الصوم / حدیث: 1616
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لاضطرابه
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لاضطرابه، كما هو مفصَّل في التعليق على "مسند أحمد" 44/ (26897) بما يغني عن إعادته. أبو صالح: اسمه باذام، ويقال: باذان مولى أم هانئ، وأم هانئ: هي بنت أبي طالب، واسمها: فاختة، وقيل: هند.» [ترقيم الرساله 1616] [ترقيم الشركة 1605]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف لاضطرابه، كما هو مفصَّل في التعليق على "مسند أحمد" 44/ (26897) بما يغني عن إعادته. أبو صالح: اسمه باذام، ويقال: باذان مولى أم هانئ، وأم هانئ: هي بنت أبي طالب، واسمها: فاختة، وقيل: هند.
درجۂ حدیث: اس کی سند اضطراب کی وجہ سے ضعیف ہے، جس کی تفصیل مسند احمد 44/ (26897) کے حاشیے میں موجود ہے۔
راوی پر جرح: ابوصالح کا نام باذام ہے، انہیں باذان مولیٰ ام ہانئ بھی کہا جاتا ہے۔ ام ہانئ بنت ابی طالب کا نام فاختہ یا ہند بتایا جاتا ہے۔
أما طريق أبي صالح عن أم هانئ هذه فقد أخرجها أحمد 45/ (27385) عن صفوان بن عيسى، بهذا الإسناد. وأبو صالح هذا ضعيف.
حوالہ / مصدر: ابوصالح عن ام ہانئ کے اس طریق کو امام احمد (45/ 27385) نے صفوان بن عیسیٰ کی سند سے روایت کیا ہے۔
راوی پر جرح: یہ ابوصالح ضعیف راوی ہیں۔
وأخرجها النسائي (3295) من طريق خالد بن الحارث، عن حاتم بن أبي صغيرة، به. وفيه قصة. قال النسائي: هذا الحديث مضطرب، وقد اختلف على سماك بن حرب فيه، وسماك بن حرب ليس ممن يعتمد عليه إذا انفرد بالحديث، لأنه كان يقبل التلقين.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (3295) نے خالد بن حارث عن حاتم بن ابی صغیرہ کے طریق سے روایت کیا ہے، جس میں ایک قصہ بھی مذکور ہے۔
علّت / فنی نکتہ: نسائی کہتے ہیں کہ یہ حدیث مضطرب ہے اور اس میں سماک بن حرب پر اختلاف ہوا ہے۔ جب سماک اکیلے ہوں تو وہ قابلِ اعتماد نہیں رہتے کیونکہ وہ تلقین قبول کر لیتے تھے۔
وانظر "علل الدارقطني" (4069).
حوالہ / مصدر: اس سلسلے میں علل دارقطنی (4069) ملاحظہ فرمائیں۔
وانظر ما بعده.
توضیح: اگلی روایت بھی ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1616 سے ماخوذ ہے۔