حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا سعيد بن عامر، حدثنا شُعبة، عن عبد العزيز بن صهيب، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن وَجَدَ تمرًا فليُفطِرْ عليه، ومن لا فليُفطِرْ على الماء، فإنه طَهور" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے کھجور میسر ہو وہ اس سے افطار کرے، اور جسے نہ ملے وہ پانی سے افطار کرے کیونکہ پانی پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني إبراهيم بن إسماعيل القارئ، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حدثنا قيس بن حفص الدَّارمي، حدثنا عبد الواحد بن زياد، عن عاصم الأحول، عن حَفْصة بنت سِيرين، عن الرَّباب، عن عمِّها سلمان بن عامر قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا كان أحدُكم صائمًا فليُفطِرْ على التَّمر، فإن لم يَجِدِ التمرَ فعلى الماءِ، فإنَّ الماء طَهور" (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرط مسلم:
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرط مسلم:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو اسے چاہیے کہ وہ کھجور سے افطار کرے، پھر اگر کھجور نہ پائے تو پانی سے افطار کرے، کیونکہ پانی پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا ایک شاہد امام مسلم کی شرط پر بھی موجود ہے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا ایک شاہد امام مسلم کی شرط پر بھی موجود ہے۔
أخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا جعفر بن سليمان، أخبرني ثابت البُنَاني، أنه سمع أنس بن مالك يقول: كان رسولُ الله ﷺ يُفطِرُ على رُطَباتٍ قبل أن يصلِّي، فإن لم يكن رُطَباتٌ فعلى تَمَراتٍ، فإن لم يكن تَمَراتٌ حَسَا حَسَواتٍ من ماء (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز (مغرب) ادا کرنے سے پہلے چند تر کھجوروں سے افطار فرماتے تھے، اگر وہ میسر نہ ہوتیں تو خشک کھجوروں سے، اور اگر وہ بھی نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹ بھر لیتے۔