أخبرني أحمد بن عثمان بن يحيى الأَدَمي المُقرئ ببغداد وبَكْرُ بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، قالا: حدثنا أبو قِلابةَ الرَّقَاشي، حدثنا عبد الصَّمد بن عبد الوارث. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل - واللفظ له - حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا محمد بن المُثنَّى العَنَزي، حدثنا عبد الصَّمد بن عبد الوارث، قال: سمعتُ أَبي يقول: حدثنا الحسين - وهو المُعلِّم - حدثنا يحيى بن أبي كَثِير، أنَّ أبا عمرٍو الأوزاعيَّ حدَّثه، أن يَعِيشَ بن الوليد حدَّثه، أن مَعْدانَ بن أبي طلحةَ حدَّثه، أنَّ أبا الدَّرداء حدَّثه: أنَّ النبيَّ ﷺ قاءَ فَأَفطَرَ، فلقيتُ ثَوبانَ في مسجد دمشق، فذكرتُ ذلك له، فقال: صَدَقَ، أنا صَبَبتُ له وَضوءَه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه لخلافٍ بين أصحاب عبد الصمد فيه، قال بعضُهم: عن يعيش بن الوليد عن أبيه عن معدان، وهذا وهمٌ من قائله، فقد رواه حرب بن شَدّاد وهشام الدَّستُوائي عن يحيى بن أبي كثير على الاستقامة. أما حديث حرب بن شدَّاد:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه لخلافٍ بين أصحاب عبد الصمد فيه، قال بعضُهم: عن يعيش بن الوليد عن أبيه عن معدان، وهذا وهمٌ من قائله، فقد رواه حرب بن شَدّاد وهشام الدَّستُوائي عن يحيى بن أبي كثير على الاستقامة. أما حديث حرب بن شدَّاد:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو قے ہوئی تو آپ ﷺ نے روزہ افطار فرما لیا۔ (راوی کہتے ہیں کہ) پھر میں دمشق کی مسجد میں سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: ”انہوں نے سچ کہا، میں نے ہی آپ ﷺ کے وضو کے لیے پانی ڈالا تھا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اس میں عبد الصمد کے شاگردوں کے اختلاف کی وجہ سے اسے روایت نہیں کیا۔ بعض نے «يعيش بن وليد عن ابيه عن معدان» روایت کیا ہے جو کہ وہم ہے، جبکہ حرب بن شداد اور ہشام دستوائی نے اسے «يعيش بن وليد عن معدان» کی درست سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اس میں عبد الصمد کے شاگردوں کے اختلاف کی وجہ سے اسے روایت نہیں کیا۔ بعض نے «يعيش بن وليد عن ابيه عن معدان» روایت کیا ہے جو کہ وہم ہے، جبکہ حرب بن شداد اور ہشام دستوائی نے اسے «يعيش بن وليد عن معدان» کی درست سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذ، حدثنا هشام بن عليّ السَّدُوسي، حدثنا عبد الله بن رَجَاء، حدثنا حرب بن شدَّاد، عن يحيى بن أبي كثير، عن عبد الرحمن بن عمرو، عن يَعِيش بن الوليد، عن مَعدانَ بن أبي طلحة، عن أبي الدَّرداء: أنَّ النبيَّ ﷺ قاءَ فأفطَرَ (1). وأما حديث هشام:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو قے ہوئی تو آپ ﷺ نے روزہ افطار فرما لیا۔
فحدَّثَناه علي بن حَمْشاذ، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا بُنْدار، حدثنا أبو بَحْرٍ البَكْراوي، حدثنا هشام الدَّستُوائي، عن يحيى بن أبي كثير، قال: حدَّثني رجل من إخواننا - قال أبو بكر محمد بن إسحاق: يريد به الأوزاعيَّ - عن يَعِيش بن الوليد بن هشام، حدثني مَعْدان بن أبي طلحة، عن أبي الدَّرداء: أنَّ رسول الله ﷺ قاءَ فأفطَرَ (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو قے ہوئی تو آپ ﷺ نے روزہ افطار فرما لیا۔ (ابوبکر بن اسحاق کہتے ہیں کہ یحییٰ بن ابی کثیر نے جس ”اپنے بھائی“ کا تذکرہ کیا ہے اس سے مراد امام اوزاعی ہیں)۔