حدیث نمبر: 1568
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذ، حدثنا هشام بن عليّ السَّدُوسي، حدثنا عبد الله بن رَجَاء، حدثنا حرب بن شدَّاد، عن يحيى بن أبي كثير، عن عبد الرحمن بن عمرو، عن يَعِيش بن الوليد، عن مَعدانَ بن أبي طلحة، عن أبي الدَّرداء: أنَّ النبيَّ ﷺ قاءَ فأفطَرَ (1). وأما حديث هشام:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو قے ہوئی تو آپ ﷺ نے روزہ افطار فرما لیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الصوم / حدیث: 1568
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل عبد الله بن رجاء» [ترقيم الرساله 1568] [ترقيم الشركة 1559]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل عبد الله بن رجاء - وهو الغداني - وقد توبع.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اور عبداللہ بن رجاء (الغدانی) کی وجہ سے یہ سند قوی ہے اور ان کی تائید بھی موجود ہے۔
وأخرجه يعقوب بن شيبة في "مسند عمر بن الخطاب" ص 77 عن عبد الله بن رجاء بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے یعقوب بن شیبہ نے "مسند عمر بن خطاب" (ص 77) میں عبداللہ بن رجاء کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن خزيمة (1958)، والبغوي في "شرح السنة" (160) من طريق عبد الصمد بن عبد الوارث، عن حرب بن شداد، به. وفي آخره قال: فلقيت ثوبان في مسجد دمشق، فذكرت ذلك له، فقال: صدق، وأنا صببت له وضوءه.
حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ (1958) اور بغوی نے "شرح السنہ" (160) میں عبدالصمد بن عبدالوارث کی سند سے روایت کیا ہے، جس کے آخر میں ہے کہ معدان کہتے ہیں: "پھر میں دمشق کی مسجد میں حضرت ثوبان ؓ سے ملا اور ان سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: (ابودرداء نے) سچ کہا ہے، میں نے ہی آپ ﷺ کے وضو کے لیے پانی ڈالا تھا"۔
وأخرج البزار (4123) عن الحسن بن يحيى، عن عبد الله بن رجاء، عن حرب بن شداد، عن يحيى بن أبي كثير، عن الأوزاعي، أنَّ وليد بن هشام حدثه، أنَّ أباه حدثه، قال: حدثني معدان .. فذكره. هكذا وقع عنده: وليد عن أبيه!
حوالہ / مصدر: اسے بزار (4123) نے الحسن بن یحییٰ عن عبداللہ بن رجاء عن حرب بن شداد کی سند سے روایت کیا ہے، مگر اس میں "ولید عن ابیہ" کے الفاظ واقع ہوئے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1568 سے ماخوذ ہے۔