کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: پہلا فجر کھانا حرام نہیں کرتا اور نہ ہی نماز کو حلال کرتا ہے۔
حدثنا أبو النَّضر الفقيه في آخَرِين من مشايخنا؛ قال أبو النَّضر: حدثنا إمامُ المسلمين في عصره أبو بكر محمد بن إسحاق بن خُزَيمة، أسكَنَه الله جنّتَه، حدثنا محمد بن علي بن مُحْرِز البغداديُّ بالفُسْطاط بخبرٍ غريبٍ، حدثنا أبو أحمد الزُّبيري، حدثنا سفيان، عن ابن جُرَيج، عن عطاء، عن ابن عباس قال: قالَ رسولُ الله ﷺ: "الفجرُ فجرانِ: فأما الأولُ فإنَّه لا يُحرِّم الطعامَ ولا يُحِلُّ الصلاة، وأما الثاني فإنه يُحرِّم الطعامَ، ويُحِلُّ الصلاة" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه:
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فجر دو طرح کی ہے: پہلی وہ جو (روزہ دار کے لیے) کھانا حرام نہیں کرتی اور نہ ہی اس سے (فجر کی) نماز حلال ہوتی ہے، اور دوسری وہ جو کھانا حرام کر دیتی ہے اور نماز کو حلال کر دیتی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کا ایک شاہد درج ذیل حدیث ہے:
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کا ایک شاہد درج ذیل حدیث ہے:
ما حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المُثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا ابن عُلَيَّة، عن عبد الله بن سَوَادةَ، عن أبيه، عن سَمُرةَ قال: قال النبيُّ ﷺ: "لا يَغُرَّنَّكم أذانُ بلالٍ، ولا هذا البياضُ لِعَمود الصُّبح، حتى يَستَطير" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں بلال کی اذان دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ ہی صبح کا وہ لمبائی میں نظر آنے والا سفیدہ (بیاضِ عمودی) یہاں تک کہ وہ چوڑائی میں پھیل جائے۔“