کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سب سے افضل صدقہ تنگ دست کی پوری کوشش سے دیا ہوا صدقہ ہے۔
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن إبراهيم، حدثنا ابن بُكَير، حدثنا الليث، عن أبي الزُّبير، عن يحيى بن جَعْدَة، عن أبي هريرة أنه قال: يا رسولَ الله، أيُّ الصَّدَقةِ أفضلُ؟ قال: "جُهْدُ المُقِلِّ، وابدأْ بمَن تَعُول" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کون سا صدقہ سب سے افضل ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کم مال والے کی محنت کی کمائی (میں سے صدقہ کرنا)، اور آغاز ان سے کرو جن کی کفالت تمہارے ذمے ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الزكاة / حدیث: 1523
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أحمد بن إبراهيم: هو ابن ملحان، وابن بكير: هو يحيى بن عبد الله بن بكير، والليث: هو ابن سعد، وأبو الزبير: هو محمد بن مسلم بن تَدرُس.» [ترقيم الرساله 1523] [ترقيم الشركة 1514]
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار العدلُ، حدثنا أحمد بن محمد بن نَصْر، حدثنا أبو نُعَيم، حدثنا هشام بن سعد، عن زيد بن أسلمَ، عن أبيه، قال: سمعتُ عمر بن الخطاب يقول: أمَرَنا رسولُ الله ﷺ يومًا أن نتصدَّقَ، فوافَقَ ذلك مالًا عندي، فقلتُ: اليومَ أسبِقُ أبا بكرٍ إن سَبَقتُه يومًا، فجئتُ بنصف مالي، فقال رسولُ الله ﷺ: "ما أبقيتَ لأهلِكَ؟ " قلت: مِثلَه. قال: وأتى أبو بكرٍ بكُلِّ ما عندَه، فقال رسولُ الله ﷺ: "ما أبقيتَ لأهلِكَ؟ " قال: أبقيتُ لهم اللهَ ورسولَه، فقلت: لا أُسابِقُك إلى شيءٍ أبدًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا، اس وقت میرے پاس اتفاقاً مال موجود تھا، میں نے (دل میں) کہا کہ اگر میں نے کبھی ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سبقت لے جانی ہے تو آج میں ان سے آگے بڑھ جاؤں گا، چنانچہ میں اپنا آدھا مال لے کر حاضر ہوا، تو رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”اسی کے برابر (یعنی آدھا مال)“، اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا تمام مال لے کر حاضر ہو گئے، تو رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے ابوبکر! تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”میں نے ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑا ہے“، تو میں نے (دل میں) کہا کہ میں کسی بھی معاملے میں آپ سے کبھی نہیں جیت سکتا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الزكاة / حدیث: 1524
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، هشام بن سعد وإن كان فيه كلام، ذهب أبو داود إلى توثيقه وقال: هو أثبت الناس في زيد بن أسلم، قال الترمذي في حديثه هذا: حسن صحيح، وقال البزار بعد أن أخرجه في "مسنده" (270): لم نر أحدًا توقف عن حديث هشام بن سعد، ولا اعتل عليه بعلة ...» [ترقيم الرساله 1524] [ترقيم الشركة 1515]
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا علي بن الحسن الهِلَالي، حدثنا محمد بن عَرْعَرة، حدثنا شعبة، عن قَتَادة، عن سعيد بن المسيّب والحسن، عن سعد بن عُبادة: أتى النبيَّ ﷺ فقال: أيُّ الصَّدقةِ أعجَبُ إليك؟ قال: "سقْيُ الماءِ" (1). تابعه همّام عن قتادة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ”آپ کو کون سا صدقہ سب سے زیادہ پسند ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پانی پلانا۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الزكاة / حدیث: 1525
درجۂ حدیث محدثین: صحيح من جهة سعيد بن المسيب
تخریج حدیث «صحيح من جهة سعيد بن المسيب، فهو وإن لم يدرك سعد بن عبادة، قد قبل جمهور من أهل العلم مراسيله واحتجوا بها. والحسن - وهو ابن أبي الحسن البصري - أيضًا لم يدرك سعدًا، لذلك تعقب الذهبيُّ في "تلخيصه" المصنف إذ صححه على شرط الشيخين، فقال: لا، فإنه غير متصل.» [ترقيم الرساله 1525] [ترقيم الشركة 1516]