المستدرك على الصحيحين
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى باب: سب سے بہتر صدقہ وہ ہے جو مال داری کے باوجود دیا جائے۔
حدیث نمبر: 1522
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العدل، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، عن ابن عَجْلان، عن عياض بن عبد الله بن سعد، سمع أبا سعيدٍ الخُدْريَّ يقول: دخلَ رجلٌ المسجد، فأمر النبيُّ ﷺ أن يَطْرَحُوا له ثيابًا، فَطَرَحُوا له، فأمر فيها بثوبين، ثم حثَّ على الصدقة فجاء فَطَرَح الثوبين، فصاح به وقال: "خُذْ ثَوبَيكَ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا تو نبی کریم ﷺ نے (اس کی خستہ حالی دیکھ کر صحابہ کو) حکم دیا کہ اس کے لیے کپڑے ڈالیں، چنانچہ لوگوں نے کپڑے ڈالے تو آپ ﷺ نے اس کے لیے ان میں سے دو کپڑوں کا حکم فرمایا، پھر آپ ﷺ نے صدقہ کی ترغیب دی تو اس شخص نے وہی دو کپڑے (صدقے کے لیے) پیش کر دیے، اس پر آپ ﷺ نے اسے پکارا اور فرمایا: ”اپنے دو کپڑے (واپس) لے لو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده قوي من أجل ابن عجلان: وهو محمد. الحميدي: هو عبد الله بن الزبير، وسفيان: هو ابن عيينة.
درجۂ حدیث: ابن عجلان (محمد) کی وجہ سے سند قوی ہے۔
راوی پر جرح: الحمیدی سے مراد عبد اللہ بن الزبیر اور سفیان سے مراد ابن عیینہ ہیں۔
وسلف مطولًا برقم (1066)، وسلف تخريجه هناك.
توضیح: یہ تفصیل کے ساتھ حدیث نمبر (1066) پر گزر چکی ہے اور وہیں اس کی تخریج بھی درج ہے۔
درجۂ حدیث: ابن عجلان (محمد) کی وجہ سے سند قوی ہے۔
راوی پر جرح: الحمیدی سے مراد عبد اللہ بن الزبیر اور سفیان سے مراد ابن عیینہ ہیں۔
وسلف مطولًا برقم (1066)، وسلف تخريجه هناك.
توضیح: یہ تفصیل کے ساتھ حدیث نمبر (1066) پر گزر چکی ہے اور وہیں اس کی تخریج بھی درج ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1522 سے ماخوذ ہے۔