کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: وہ مقدارِ مال جس کے بعد سوال کرنا حرام ہو جاتا ہے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن عليِّ بن عفَّان العامرِي، حدثنا يحيى بن آدم، حدثنا سفيان بن سعيد، عن حَكِيم بن جُبَير، عن محمد بن عبد الرحمن بن يزيد، عن أبيه، عن عبد الله قال: قال رسولُ الله ﷺ: "مَن سَألَ وله ما يُغْنيهِ جاءَ يومَ القيامة خُمُوشٌ - أو خُدُوشٌ أو كُدُوحٌ - في وَجْهِه"، فقيل: يا رسول الله، وما الغِنَى؟ قال: "خَمسونَ دِرهمًا أو قيمتُها من الذَّهب" (1). قال يحيى بن آدم: فقال عبد الله بن عثمان لسفيان: حِفْظي أنَّ شُعبة كان لا يروي عن حَكِيم بن جُبَير، قال سفيان: فقد حدثنا زُبَيد عن محمد بن عبد الرحمن بن يزيد.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے (لوگوں سے) سوال کیا جبکہ اس کے پاس اتنا مال موجود تھا جو اسے بے نیاز کر دے، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر خراشیں یا زخم ہوں گے۔“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! غنا (بے نیازی) کی حد کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پچاس درہم یا اس کی مالیت کا سونا۔“
یحییٰ بن آدم کہتے ہیں کہ شعبہ، حکیم بن جبیر سے روایت نہیں کرتے تھے، مگر سفیان ثوری نے کہا کہ زبید نے محمد بن عبدالرحمن بن یزید کے واسطے سے یہ حدیث ہمیں سنائی ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الزكاة / حدیث: 1495
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، حكيم بن جبير لم ير يحيى القطان بحديثه بأسًا، كما رواه الترمذي بإثر (155) عن علي بن المديني عنه، وقال أبو زرعة: محلُّه الصدق. قلنا: إنما تكلَّم فيه شعبة لأجل هذا الحديث، كما قال يحيى القطان، وهذا الحديث قد حسَّنه الترمذي ووافقه ابن العربي في "العارضة" 3/ 148، ...» [ترقيم الرساله 1495] [ترقيم الشركة 1484]
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحَسَن بن علي بن زياد، حدثنا إبراهيم بن موسى، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ: "لا تَحِلُّ الصَّدقةُ لغنيٍّ إلَّا لخمسةٍ: لِغازٍ في سبيل الله، أو لعاملٍ عليها، أو لغارمٍ، أو لرجلٍ اشتراها بمالِه، أو لرجلٍ كان له جارٌ مسكينٌ، فتُصُدِّق على المسكين، فأَهدَى المسكينُ للغنيِّ" (1).
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين ولم يُخرجاه لإرسال مالك بن أنس إياه عن زيد بن أسلم (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”زکوٰۃ کسی مالدار کے لیے حلال نہیں ہے سوائے پانچ صورتوں کے: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، زکوٰۃ وصول کرنے والا عامل، قرض دار (جو ادائیگی سے قاصر ہو)، وہ شخص جس نے اسے اپنے مال سے خریدا ہو، یا وہ شخص جس کا کوئی مسکین پڑوسی ہو جسے صدقہ دیا گیا اور پھر اس مسکین نے وہی مال کسی مالدار کو تحفے میں دے دیا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، امام مالک نے اسے مرسل روایت کیا ہے لیکن دیگر ثقہ راویوں نے اسے موصول (مسند) بیان کیا ہے اور ثقہ کی زیادتی مقبول ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الزكاة / حدیث: 1496
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، رجاله ثقات، إلا أنه قد اختلف في وصله وإرساله كما سيأتي. أبو بكر بن إسحاق الفقيه: اسمه أحمد، وإبراهيم بن موسى: هو ابن يزيد الرازي.» [ترقيم الرساله 1496] [ترقيم الشركة 1485]
أخبرَناه أبو بكر بن أبي نَصْر المروَزيّ، حدثنا أحمد بن عيسى، حدثنا القَعْنبي فيما قَرأَ على مالك، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار: أنَّ رسولَ الله ﷺ قال: "لا تَحِلُّ الصَّدقةُ لغنيٍّ إلَّا لخمسةٍ"، فذكر الحديث (1). هذا من شَرْطي في خطبة الكتاب أنه صحيح، فقد يُرسِلُ مالك في الحديث ويَصِلُه أو [يُسنِده] (2) ثقةٌ، والقولُ فيه قولُ الثقة الذي يَصِلُه ويُسنِده.
حافظ طلحہ بابر
امام مالک سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”زکوٰۃ کسی مالدار کے لیے حلال نہیں سوائے پانچ افراد کے...“ پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔ یہ میرے نزدیک صحیح ہے جیسا کہ میں نے کتاب کے خطبے میں ذکر کیا ہے کہ اگر کوئی ثقہ راوی اسے مسنداً بیان کرے تو اسی کا قول معتبر ہوگا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الزكاة / حدیث: 1497
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وقد رجحنا قبلُ أنَّ عطاء بن يسار ربما أسنده مرة وأرسله أخرى، ولا تعلُّ إحداهما الأخرى. وعلى فرض إرساله فإنه يتقوى ويعتضد بعمل الأئمة، والله أعلم.» [ترقيم الرساله 1497] [ترقيم الشركة 1486]