حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب إملاءً، حدثنا الحسن بن مُكرَم البزَّاز، حدثنا عثمان بن عمر، أخبرنا ابن عون، عن حفصة بنت سيرين، عن أم الرّائح بنت صُلَيع، عن سلمان بن عامر، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إنَّ الصدقةَ على المسكين صدقةٌ، وإنها على ذي الرَّحِم اثنتان؛ إنها صدقةٌ وصِلَة" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی مسکین پر صدقہ کرنا صرف ایک صدقہ ہے، جبکہ اپنے قریبی رشتہ دار پر صدقہ کرنا دو چیزیں ہیں؛ یہ صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔“
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سليمان المَوصِلي، حدثنا علي بن حرب، حدثنا سفيان. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه - واللفظ له - أخبرنا بشرُ بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن منصور، عن أبي حازم، عن أبي هريرةَ، يَبلُغُ به: "لا تَحِلُّ الصدقةُ لِغنيٍّ ولا لذي مِرَّةٍ سَوِيٍّ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. شاهدُه حديث عبد الله بن عمرو:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. شاهدُه حديث عبد الله بن عمرو:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”صدقہ (زکوٰۃ) نہ تو کسی مالدار کے لیے حلال ہے اور نہ ہی کسی ایسے تندرست و توانا شخص کے لیے جو صحیح اعضاء کا مالک (اور کمانے کے قابل) ہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کی شاہد حدیث سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کی شاہد حدیث سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا أحمد بن سَيَّار، حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سفيان، عن سعد بن إبراهيم. وحدثنا أحمد بن سَلْمان الفقيه، حدثنا أبو بكر بن أبي العَوَّام، حدثنا أبي، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن أبيه. وأخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة، عن سعد بن إبراهيم، عن رَيْحان بن يزيد، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي ﷺ قال: "لا تحلُّ الصَّدقةُ لِغنيٍّ، ولا لِذِي مِرَّةٍ قويّ". هكذا قال الثوري وشعبة، وفي حديث إبراهيم بن سعد: "سَوِيّ" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”صدقہ نہ تو کسی مالدار کے لیے حلال ہے اور نہ ہی کسی طاقتور تندرست شخص کے لیے۔“ امام ثوری اور شعبہ نے یہی الفاظ کہے ہیں، جبکہ ابراہیم بن سعد کی حدیث میں «سوي» (درست اعضاء والا) کے الفاظ ہیں۔