کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: ابو رغال عاملِ زکوٰۃ کا واقعہ۔
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، حدثنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث، حدثني هشام بن سعد، عن عباس بن عبد الله بن مَعبَد بن عباس، عن عاصم بن عمر بن قَتادة الأنصاري، عن قيس بن سعد بن عُبادة الأنصاري: أنَّ رسولَ الله ﷺ بَعَثَه ساعيًا، فقال أبوه: لا تَخرُجْ حتى تُحدِثَ برسول الله ﷺ عهدًا، فلما أراد الخروج أتى رسولَ الله ﷺ، فقال له رسول الله ﷺ: "يا قَيسُ، لا تأتي يومَ القيامة على رَقَبَتك بعيرٌ له رُغاءٌ، أو بقرةٌ لها خُوَارٌ، أو شاةٌ لها يُعَار، ولا تكن كأبي رُغَال" فقال سعد: وما أبو رُغال؟ قال: "مُصَدِّقٌ بعثَه صالحٌ، فوجد رجلًا بالطائف في غُنَيمةٍ قريبةٍ من المئة شِصَاصٍ إلّا شاةً واحدة، وابنٌ صغيرٌ لا أُمَّ له، فلَبَنُ تلك الشاة عِيشتُه، فقال صاحب الغنم: من أنت؟ فقال: أنا رسولُ رسولِ الله ﷺ فرحَّب وقال: هذه غَنَمي، فخُذْ أيَّما أحببتَ، فنظر إلى الشاة اللَّبون فقال: هذه، فقال الرجل: هذا الغلامُ كما ترى ليس له طعامٌ ولا شرابٌ غيرُها، فقال: إن كنتَ تحبُّ اللبن فأنا أحبُّه، فقال: خذ شاتين مكانها، فأَبى، فلم يزل يزيدُه ويبذلُ حتى بَذَلَ له خمسَ شياه شِصاصٍ مكانَها، فأَبى عليه، فلمّا رأى ذلك عَمَدَ إلى قوسه فرَمَاه فقتله، فقال: ما ينبغي لأحدٍ أن يأتي رسولَ الله ﷺ بهذا الخبر أحدٌ قبلي، فأتى صاحبُ الغنم صالح النبيَّ ﷺ فأخبره، فقال صالح: اللهم العَنْ أبا رُغالٍ، اللهم العَنْ أبا رُغال"، فقال سعد بن عُبادة: يا رسول الله، اعفُ قيسًا من السِّعاية (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ مختصرٌ على شرط الشيخين:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں زکوٰۃ وصول کرنے والا بنا کر بھیجا، تو ان کے والد (سعد بن عبادہ) نے کہا: جب تک تم رسول اللہ ﷺ سے دوبارہ عہد نہ کر لو، نہ جانا۔ چنانچہ وہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: "اے قیس! ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تم اس حال میں آؤ کہ تمہاری گردن پر اونٹ سوار ہو جو بلبلا رہا ہو، یا گائے ہو جو ڈنکار رہی ہو، یا بکری ہو جو مِمیا رہی ہو، اور تم 'ابو رغال' کی طرح نہ بن جانا۔" سیدنا سعد نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ابو رغال کون تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ سیدنا صالح علیہ السلام کا بھیجا ہوا ایک تحصیلدار تھا، اسے طائف میں ایک شخص ملا جس کے پاس سو کے قریب بکریاں تھیں سوائے ایک کے، اور اس کا ایک چھوٹا یتیم بچہ تھا جس کی زندگی کا دارومدار اسی ایک بکری کے دودھ پر تھا۔ اس تحصیلدار نے اسی دودھ دینے والی بکری کو زکوٰۃ میں لینے پر اصرار کیا، مالک نے بہت منت سماجت کی کہ بچے کے پاس اس کے سوا کچھ نہیں، یہاں تک کہ اس نے اس ایک بکری کے بدلے پانچ بکریاں دینے کی پیشکش کی مگر وہ ظالم نہ مانا۔ آخر کار مالک نے غصے میں آ کر اسے تیر مارا اور قتل کر دیا۔ سیدنا صالح علیہ السلام نے اس پر لعنت فرمائی۔" یہ سن کر سیدنا سعد بن عبادہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! قیس کو اس ذمہ داری سے معاف فرما دیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الزكاة / حدیث: 1466
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لانقطاعه
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لانقطاعه، قال الذهبي في "تلخيص المستدرك": عاصم لم يدرك قيسًا. الليث: هو ابن سعد.» [ترقيم الرساله 1466] [ترقيم الشركة 1454]
أخبرَناه أبو بكر محمد بن داود بن سليمان، حدثنا علي بن الحسين بن الجُنَيد، حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الأُموي، حدثنا أبي، عن يحيى بن سعيد، عن نافع، عن ابن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ بعثَ سعدَ بن عُبادة مصَدِّقًا، فقال: "يا سعدُ، إياك أن تجيءَ يوم القيامة ببَعيرٍ تحملُه له رُغاء" قال: لا آخُذُه، ولا أجيءُ به، فعَفَاه (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سعد بن عبادہ کو زکوٰۃ وصول کرنے والا بنا کر بھیجا اور فرمایا: "اے سعد! بچنا اس بات سے کہ تم قیامت کے دن اپنی گردن پر ایسا اونٹ اٹھائے ہوئے آؤ جو بلبلا رہا ہو۔" انہوں نے عرض کیا: (اگر ایسا خطرہ ہے تو) میں یہ عہدہ نہیں لیتا، چنانچہ آپ ﷺ نے انہیں معاف کر دیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الزكاة / حدیث: 1467
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،نافع: هو مولى ابن عمر، والراوي عنه يحيى بن سعيد: هو الأنصاري.» [ترقيم الرساله 1467] [ترقيم الشركة 1455]
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يعقوب بن إبراهيم، حدثنا أبي، عن ابن إسحاق، حدثني عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم، عن يحيى بن عبد الله بن عبد الرحمن بن سعد بن زُرَارة، عن عُمَارة بن عمرو بن حَزْم، عن أُبي بن كعبٍ قال: بَعَثَني النبيُّ ﷺ مصَدِّقًا، فمررتُ برجل، فجَمَع لي ماله، لم أجِدْ عليه فيها إلّا ابنةَ مَخاضٍ، فقلت له: أَدِّ ابنةَ مخاضٍ، فإنها صدقتُك، فقال: ذاك ما لا لَبَنَ فيه ولا ظهرَ، ولكن هذه ناقةٌ عظيمةٌ سمينةٌ فخذها، فقلت له: ما أنا بآخِذٍ ما لم أُؤمَرْ به، وهذا رسول الله ﷺ منكَ قريب، فإن أحببتَ أن تأتيَه فتَعرِضَ عليه ما عرضتَ عليَّ، فافعل، فإن قَبِلَه منك قبلتُه، وإن ردَّه عليك رددتُه، قال: فإني فاعل. قال: فخَرَجَ معي وخَرَجَ بالناقة التي عَرَضَ عليَّ، حتى قَدِمْنا على رسول الله ﷺ، فقال: يا نبيَّ الله، أتاني رسولُك ليأخذَ من صَدَقةِ مالي، وايمُ اللهِ ما قام في مالي رسولُ الله ﷺ، ولا رسولُه قطُّ قبلَه، فجَمعتُ له مالي، فزعم أنَّ ما عَليَّ فيه ابنةُ مخاضٍ، وذلك ما لا لَبَنَ فيه ولا ظهرَ، وقد عرضتُ عليه ناقةً عظيمةً ليأخذها فأَبى عَليَّ، وها هي ذِه قد جئتُك بها يا رسول الله، خُذْها، فقال له رسول الله ﷺ: "ذلك الذي عليك، فإن تطوعتَ بخيرٍ أجَرَكَ الله فيه، وقَبِلْناه منك"، قال: فها هي ذِه يا رسول الله، قد جئتُك بها فخذها، قال: فأمَرَ رسول الله ﷺ، بقَبْضِها، ودعا في مالِه بالبَرَكة (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا، میرا گزر ایک شخص پر ہوا، اس نے اپنا مال میرے سامنے جمع کیا تو اس پر صرف ایک سالہ اونٹنی (بنت مخاض) واجب نکلتی تھی۔ میں نے کہا: ایک سالہ اونٹنی ادا کرو یہی تمہاری زکوٰۃ ہے۔ اس نے کہا: وہ تو نہ دودھ دیتی ہے نہ سواری کے کام آتی ہے، آپ یہ میری بہترین جوان اور موٹی اونٹنی لے لیں۔ میں نے کہا: میں وہ چیز نہیں لے سکتا جس کا مجھے حکم نہیں دیا گیا، آپ خود رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ پیش کریں، اگر آپ ﷺ نے قبول کر لی تو میں لے لوں گا۔ چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور سارا واقعہ سنایا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم پر واجب تو وہی (ایک سالہ اونٹنی) تھی، لیکن اگر تم اپنی خوشی سے یہ بہتر اونٹنی دینا چاہتے ہو تو اللہ تمہیں اس کا اجر دے گا اور ہم اسے قبول کر لیں گے۔" آپ ﷺ نے اسے قبول فرمایا اور اس کے مال میں برکت کی دعا دی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الزكاة / حدیث: 1468
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل محمد بن إسحاق. يعقوب بن إبراهيم: هو ابن سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف. وهو في "مسند أحمد" 35/ (21279).» [ترقيم الرساله 1468] [ترقيم الشركة 1456]