حدیث نمبر: 1468
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يعقوب بن إبراهيم، حدثنا أبي، عن ابن إسحاق، حدثني عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم، عن يحيى بن عبد الله بن عبد الرحمن بن سعد بن زُرَارة، عن عُمَارة بن عمرو بن حَزْم، عن أُبي بن كعبٍ قال: بَعَثَني النبيُّ ﷺ مصَدِّقًا، فمررتُ برجل، فجَمَع لي ماله، لم أجِدْ عليه فيها إلّا ابنةَ مَخاضٍ، فقلت له: أَدِّ ابنةَ مخاضٍ، فإنها صدقتُك، فقال: ذاك ما لا لَبَنَ فيه ولا ظهرَ، ولكن هذه ناقةٌ عظيمةٌ سمينةٌ فخذها، فقلت له: ما أنا بآخِذٍ ما لم أُؤمَرْ به، وهذا رسول الله ﷺ منكَ قريب، فإن أحببتَ أن تأتيَه فتَعرِضَ عليه ما عرضتَ عليَّ، فافعل، فإن قَبِلَه منك قبلتُه، وإن ردَّه عليك رددتُه، قال: فإني فاعل. قال: فخَرَجَ معي وخَرَجَ بالناقة التي عَرَضَ عليَّ، حتى قَدِمْنا على رسول الله ﷺ، فقال: يا نبيَّ الله، أتاني رسولُك ليأخذَ من صَدَقةِ مالي، وايمُ اللهِ ما قام في مالي رسولُ الله ﷺ، ولا رسولُه قطُّ قبلَه، فجَمعتُ له مالي، فزعم أنَّ ما عَليَّ فيه ابنةُ مخاضٍ، وذلك ما لا لَبَنَ فيه ولا ظهرَ، وقد عرضتُ عليه ناقةً عظيمةً ليأخذها فأَبى عَليَّ، وها هي ذِه قد جئتُك بها يا رسول الله، خُذْها، فقال له رسول الله ﷺ: "ذلك الذي عليك، فإن تطوعتَ بخيرٍ أجَرَكَ الله فيه، وقَبِلْناه منك"، قال: فها هي ذِه يا رسول الله، قد جئتُك بها فخذها، قال: فأمَرَ رسول الله ﷺ، بقَبْضِها، ودعا في مالِه بالبَرَكة (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا، میرا گزر ایک شخص پر ہوا، اس نے اپنا مال میرے سامنے جمع کیا تو اس پر صرف ایک سالہ اونٹنی (بنت مخاض) واجب نکلتی تھی۔ میں نے کہا: ایک سالہ اونٹنی ادا کرو یہی تمہاری زکوٰۃ ہے۔ اس نے کہا: وہ تو نہ دودھ دیتی ہے نہ سواری کے کام آتی ہے، آپ یہ میری بہترین جوان اور موٹی اونٹنی لے لیں۔ میں نے کہا: میں وہ چیز نہیں لے سکتا جس کا مجھے حکم نہیں دیا گیا، آپ خود رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ پیش کریں، اگر آپ ﷺ نے قبول کر لی تو میں لے لوں گا۔ چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور سارا واقعہ سنایا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم پر واجب تو وہی (ایک سالہ اونٹنی) تھی، لیکن اگر تم اپنی خوشی سے یہ بہتر اونٹنی دینا چاہتے ہو تو اللہ تمہیں اس کا اجر دے گا اور ہم اسے قبول کر لیں گے۔" آپ ﷺ نے اسے قبول فرمایا اور اس کے مال میں برکت کی دعا دی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الزكاة / حدیث: 1468
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل محمد بن إسحاق. يعقوب بن إبراهيم: هو ابن سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف. وهو في "مسند أحمد" 35/ (21279).» [ترقيم الرساله 1468] [ترقيم الشركة 1456]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق. يعقوب بن إبراهيم: هو ابن سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف. وهو في "مسند أحمد" 35/ (21279).
درجۂ حدیث: محمد بن اسحاق کی وجہ سے اس کی سند حسن ہے۔
راوی پر جرح: یعقوب بن ابراہیم سے مراد ابن سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف ہیں۔
حوالہ / مصدر: یہ "مسند احمد" (35/ 21279) میں موجود ہے۔
وأخرجه أبو داود (1583) عن محمد بن منصور، عن يعقوب بن إبراهيم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (1583) نے محمد بن منصور کے واسطے سے یعقوب بن ابراہیم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد في زياداته على "المسند" (21280)، وابن حبان (3269) من طريقين عن محمد بن إسحاق، به.
حوالہ / مصدر: اسے عبداللہ بن احمد نے "المسند" پر اپنے اضافات (21280) میں اور ابن حبان (3269) نے محمد بن اسحاق کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1468 سے ماخوذ ہے۔