حدثنا أبو بكر محمد بن داود بن سليمان، حدثنا عبد الله بن محمد بن ناجية، حدثنا رجاء بن محمد العُذْري، حدثنا عمرو بن محمد بن أبي رَزِين، حدثنا شعبة، عن مِسعَر، عن زياد بن عِلَاقة، عن عمِّه: أنَّ المغيرة بن شعبة سبَّ عليَّ بن أبي طالب، فقام إليه زيدُ بنُ أرقمَ، فقال: يا مُغيرةُ، ألم تعلم أنَّ رسول الله ﷺ نهى عن سبِّ الأموات، فلِمَ تسُبُّ عليًّا وقد مات؟ (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه هكذا، إنما اتفقا على حديث الأعمش عن مجاهد عن عائشة: أنَّ النبيَّ ﷺ قال: "لا تَسبُّوا الأمواتَ، فإنَّهم قد أَفضَوْا إلى ما قدَّموا" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه هكذا، إنما اتفقا على حديث الأعمش عن مجاهد عن عائشة: أنَّ النبيَّ ﷺ قال: "لا تَسبُّوا الأمواتَ، فإنَّهم قد أَفضَوْا إلى ما قدَّموا" (1).
حافظ طلحہ بابر
زیاد بن علاقہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازیبا کلمات کہے، تو سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ان کی طرف کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے مغیرہ! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مردوں کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا ہے؟ تو پھر آپ علی کو کیوں برا بھلا کہہ رہے ہیں جبکہ وہ وفات پا چکے ہیں؟
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں (بخاری و مسلم) نے اعمش کی مجاہد سے اور انہوں نے سیدہ عائشہ سے مروی اس حدیث پر اتفاق کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مردوں کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ وہ اپنے بھیجے ہوئے اعمال تک پہنچ چکے ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں (بخاری و مسلم) نے اعمش کی مجاہد سے اور انہوں نے سیدہ عائشہ سے مروی اس حدیث پر اتفاق کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مردوں کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ وہ اپنے بھیجے ہوئے اعمال تک پہنچ چکے ہیں۔“
أخبرنا علي بن أحمد بن قُرْقُوب التَّمَّار بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا أبو اليَمَان، أخبرني شعيب بن أبي حمزة، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي حسين، حدثني نَوفَلُ بن مُسَاحِق، عن سعيد بن زيد، قال: قال رسولُ الله ﷺ: "لا تُؤذُوا مسلمًا بشَتْمِ كافر" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی مسلمان کو کسی کافر (مردے) کو گالی دے کر تکلیف نہ پہنچاؤ۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر محمد بن جعفر المزكِّي، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا أبو كُرَيب [حدثنا معاوية بن هشام، عن عِمْران بن أنس المكّي، عن عطاءٍ، عن ابن عمر، قال: قال رسول الله ﷺ] (3): "اذكُرُوا مَحاسِنَ موتاكُم، وكُفُّوا عن مَساوئِهم" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وهذه الأحاديث وجدتُها في الباب بعد نقل كتاب الجنائز، وسبيلُها أن تكون مخرَّجةً في مواضعها قبلَ هذا.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وهذه الأحاديث وجدتُها في الباب بعد نقل كتاب الجنائز، وسبيلُها أن تكون مخرَّجةً في مواضعها قبلَ هذا.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے مردوں کی خوبیاں بیان کیا کرو اور ان کی برائیوں سے زبان کو روکے رکھو۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور یہ وہ احادیث ہیں جو مجھے کتاب الجنائز کی نقل کے بعد اس باب میں ملی ہیں، اور ان کا تقاضا یہ تھا کہ انہیں ان کے اصل مقامات پر پہلے ہی درج کر دیا جاتا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور یہ وہ احادیث ہیں جو مجھے کتاب الجنائز کی نقل کے بعد اس باب میں ملی ہیں، اور ان کا تقاضا یہ تھا کہ انہیں ان کے اصل مقامات پر پہلے ہی درج کر دیا جاتا۔
أخبرنا إبراهيم بن عِصْمة بن إبراهيم العدل، حدثنا أبو مُسلِم المسيَّبُ بن زُهير البغدادي، حدثنا أبو بكرٍ وعثمانُ ابنا أبي شَيْبة، قالا: حدثنا سفيان بن عُيينةَ، عن عمرو بن دِينار، عن عطاء بن أبي رَبَاح، عن ابن عباس قال: قال رسولُ الله ﷺ: "لا تُنجِّسوا موتاكُم، فإنَّ المُسلِمَ لا يَنجَسُ حَيًّا أو مَيْتًا" (2). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے مردوں کو ناپاک نہ سمجھو، کیونکہ مسلمان زندگی اور موت دونوں حالتوں میں ناپاک نہیں ہوتا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔