المستدرك على الصحيحين
كتاب الجنائز— نماز جنازہ کا بیان
قِرَاءَةُ الْفَاتِحَةِ فِي صَلَاةِ الْجِنَازَةِ باب: نمازِ جنازہ میں سورۃ الفاتحہ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1341
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الرَّبيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، حدثنا إبراهيم بن أبي يحيى، حدثنا عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن جابرٍ قال: كان رسول الله ﷺ يُكبِّر على جنائزِنا أربعًا، ويقرأُ بفاتحة الكتاب في التكبيرة الأُولى (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے جنازوں پر چار تکبیریں کہا کرتے تھے اور پہلی تکبیر میں سورہ فاتحہ کی تلاوت فرماتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف جدًّا، إبراهيم بن أبي يحيى - وهو إبراهيم بن محمد بن أبي يحيى الأسلمي - متروك، لا يصلح للاحتجاج ولا للاستشهاد.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند انتہائی ضعیف ہے۔ ابراہیم بن ابی یحییٰ "متروک" راوی ہے، جو نہ حجت کے لیے درست ہے اور نہ ہی متابعت (تائید) کے لیے۔
وأخرجه البيهقي في "السنن الكبرى" 4/ 39 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "السنن الکبریٰ" (39/4) میں امام حاکم کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وهو في "الأم" للشافعي 2/ 607، ومن طريقه أخرجه أبو نعيم في "الحلية" 9/ 159، والبيهقي في "المعرفة" (7600).
حوالہ / مصدر: یہ امام شافعی کی کتاب "الام" (607/2) میں موجود ہے اور وہیں سے ابونعیم اور بیہقی نے اسے نقل کیا ہے۔
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند انتہائی ضعیف ہے۔ ابراہیم بن ابی یحییٰ "متروک" راوی ہے، جو نہ حجت کے لیے درست ہے اور نہ ہی متابعت (تائید) کے لیے۔
وأخرجه البيهقي في "السنن الكبرى" 4/ 39 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "السنن الکبریٰ" (39/4) میں امام حاکم کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وهو في "الأم" للشافعي 2/ 607، ومن طريقه أخرجه أبو نعيم في "الحلية" 9/ 159، والبيهقي في "المعرفة" (7600).
حوالہ / مصدر: یہ امام شافعی کی کتاب "الام" (607/2) میں موجود ہے اور وہیں سے ابونعیم اور بیہقی نے اسے نقل کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1341 سے ماخوذ ہے۔