کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: مؤمن کے جسم کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے اللہ اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا يعلى بن عُبيد، حدثنا طلحة بن يحيى، عن أبي بُرْدة (1)، عن معاوية قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "ما من شيءٍ يصيبُ المؤمنَ فِي جَسَده يُؤذِيهِ، إِلَّا كفَّر عنه من سَيئاته" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”مومن کو اس کے جسم میں پہنچنے والی کوئی بھی ایسی چیز جو اسے اذیت دے، وہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1301
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل طلحة بن يحيى التيمي، وقد توبع.» [ترقيم الرساله 1301] [ترقيم الشركة 1289]
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا أحمد بن عيسى، حدثنا ابن وَهْب، أخبرني عبد الرحمن بن سَلْمان الحَجْريّ، عن عمرو بن أبي عمرو، عن المَقْبريّ، عن أبي هريرة قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "إِنَّ الله لَيَبتلي عبدَه بالسَّقَم حتى يُكفِّرَ ذلك عنه كلَّ ذَنْب" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو بیماری کے ذریعے آزماتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ بیماری اس کے ہر گناہ کو مٹا دیتی ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1302
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،عبد الرحمن بن سلمان الحَجْري مختلف في توثيقه وتضعيفه، وخلاصة القول فيه أنه يعتبر به في المتابعات والشواهد، وحديثه هذا له شواهد، وانتهى الحافظ ابن حجر فيه إلى أنه لا بأس به. والحَجْري - بحاء مهملة مفتوحة، ثم جيم ساكنة - منسوب إلى حَجْر رُعَين وهي قبيلة معروفة.» [ترقيم الرساله 1302] [ترقيم الشركة 1290]