کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: مؤمن پر اس کی جان، مال اور اولاد میں آزمائش آتی رہتی ہے یہاں تک کہ وہ اللہ سے اس حال میں ملتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمَّاك ببغداد، حدثنا علي بن إبراهيم الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "لا يزالُ البلاءُ بالمؤمن في نفسِه ومالِه وولدِه، حتى يَلقَى الله وما عليه من خَطِيئة" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهد صحيح:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهد صحيح:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن اپنی جان، اپنے مال اور اپنی اولاد کے معاملے میں مسلسل آزمائشوں میں رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ سے اس حال میں ملتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ باقی نہیں ہوتا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ اس کی ایک صحیح شاہد حدیث بھی موجود ہے:
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ اس کی ایک صحیح شاہد حدیث بھی موجود ہے:
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزَّاهد الأصبهاني، حدثنا أحمد بن مهران، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن عبد الله بن المختار، عن ابن سيرين، عن أبي هريرة قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "وَصَبُ المُؤمِنِ كفارةٌ لخطاياه" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”مومن کو پہنچنے والی بیماری اور تکلیف اس کی خطاؤں کا کفارہ بن جاتی ہے۔“