کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: مؤمن پر اس کی جان، مال اور اولاد میں آزمائش آتی رہتی ہے یہاں تک کہ وہ اللہ سے اس حال میں ملتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمَّاك ببغداد، حدثنا علي بن إبراهيم الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "لا يزالُ البلاءُ بالمؤمن في نفسِه ومالِه وولدِه، حتى يَلقَى الله وما عليه من خَطِيئة" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهد صحيح:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن اپنی جان، اپنے مال اور اپنی اولاد کے معاملے میں مسلسل آزمائشوں میں رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ سے اس حال میں ملتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ باقی نہیں ہوتا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ اس کی ایک صحیح شاہد حدیث بھی موجود ہے:
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1297
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة الليثي. أبو سلمة: هو ابن عبد الرحمن.» [ترقيم الرساله 1297] [ترقيم الشركة 1285]
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزَّاهد الأصبهاني، حدثنا أحمد بن مهران، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن عبد الله بن المختار، عن ابن سيرين، عن أبي هريرة قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "وَصَبُ المُؤمِنِ كفارةٌ لخطاياه" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”مومن کو پہنچنے والی بیماری اور تکلیف اس کی خطاؤں کا کفارہ بن جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1298
درجۂ حدیث محدثین: هذا إسناد لا بأس برجاله
تخریج حدیث «هذا إسناد لا بأس برجاله، إلّا أنه قد أعله أبو حاتم الرازي والدارقطني بوهم وقع من عبد الله بن المختار في جعله من حديث أبي هريرة وفي رفعه وقالا: إنَّ الصحيح ما رواه أيوب السختياني وهشام بن حسان - قال الدارقطني وحسبك بهما في الثقة - عن ابن سيرين، عن ...» [ترقيم الرساله 1298] [ترقيم الشركة 1286]