حدیث نمبر: 1297
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمَّاك ببغداد، حدثنا علي بن إبراهيم الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "لا يزالُ البلاءُ بالمؤمن في نفسِه ومالِه وولدِه، حتى يَلقَى الله وما عليه من خَطِيئة" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهد صحيح:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن اپنی جان، اپنے مال اور اپنی اولاد کے معاملے میں مسلسل آزمائشوں میں رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ سے اس حال میں ملتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ باقی نہیں ہوتا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ اس کی ایک صحیح شاہد حدیث بھی موجود ہے:

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1297
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة الليثي. أبو سلمة: هو ابن عبد الرحمن.» [ترقيم الرساله 1297] [ترقيم الشركة 1285]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة الليثي. أبو سلمة: هو ابن عبد الرحمن.
درجۂ حدیث: (1) محمد بن عمرو بن علقمہ اللیثی کی وجہ سے سند حسن ہے۔ ابوسلمہ سے مراد ابن عبدالرحمن ہیں۔
وأخرجه أحمد 15/ (9811)، وابن حبان (2913) من طريق يزيد بن هارون، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (9811/15) اور ابن حبان (2913) نے یزید بن ہارون کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 13/ (7859) عن محمد بن بشر، والترمذي (2399)، وابن حبان (2924) من طريق يزيد بن زريع، كلاهما عن محمد بن عمرو بن علقمة به. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (7859/13) اور ترمذی (2399) نے محمد بن عمرو بن علقمہ کی سند سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
وسيأتي برقم (8077) من طريق عباد بن العوام عن محمد بن عمرو.
تکرار: یہ آگے نمبر (8077) پر دوبارہ آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1297 سے ماخوذ ہے۔