کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: گھر سے رخصت ہوتے وقت دو رکعت نماز پڑھنا۔
حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن إسحاق الإمام، حدثنا محمد بن أبي صفوان الثَّقَفي، حدثنا عبد السلام بن هاشم، حدثنا عثمان بن سَعْد الكاتب - وكانت له مُروءةٌ وعَقْلٌ - عن أنس بن مالك قال: كان النبيُّ ﷺ لا يَنزِلُ منزلًا إِلَّا وَدَّعَه بركعتين (2).
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، وعثمان بن سعد الكاتب ممن يُجمَع حديثه في البصريِّين (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کسی بھی مقام پر قیام فرمانے کے بعد جب وہاں سے روانہ ہوتے تو اس جگہ کو دو رکعت پڑھ کر الوداع کہتے تھے۔
یہ حدیث صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور عثمان بن سعد الکاتب ان راویوں میں سے ہیں جن کی حدیث بصریوں میں جمع کی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب صلاة التطوع / حدیث: 1203
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف عثمان بن سعد الكاتب
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف عثمان بن سعد الكاتب، وقد تفرَّد به، والراوي عنه عبد السلام بن هاشم قال الذهبي في "تلخيصه": ذكر أبو حفص الفلاس عبد السلام هذا فقال: لا أقطع على أحد بالكذب إلّا عليه- قلنا: لكنه قد توبع- محمد بن إسحاق الإمام: هو الإمام ابن خزيمة- وهو في "صحيحه" (1260) و (2568)-» [ترقيم الرساله 1203] [ترقيم الشركة 1192]
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أحمد بن مِهْران الأصبهاني، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا شَيبان، عن الأعمش، عن علي بن الأقمَر (1)، عن الأغرِّ أبي مسلم، عن أبي سعيد وأبي هريرة قالا: قال رسول الله ﷺ: "من استيقَظَ من الليل وأيقَظَ أهلَه، فصلَّيَا ركعتين جميعًا، كُتبا من الذَّاكِرِينَ الله كثيرًا والذَّاكراتِ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص رات کو بیدار ہوا اور اس نے اپنے گھر والوں کو بھی جگایا، پھر ان دونوں نے مل کر دو رکعتیں پڑھیں، تو وہ دونوں اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مردوں اور ذکر کرنے والی عورتوں میں لکھ لیے جاتے ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب صلاة التطوع / حدیث: 1204
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، على اختلاف في حديث أبي سعيد الخدري في رفعه ووقفه، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن مهران، وقد توبع» [ترقيم الرساله 1204] [ترقيم الشركة 1193]