أخبرنا أبو النضر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا إسماعيل بن عَبد الله بن زُرَارة الرَّقِّي، حدثنا خالد بن عبد الله، حدثنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "لا يحافظُ على صلاة الضُّحى إلّا أوَّاب"، قال: "وهي صلاة الأوّابين" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چاشت (ضحیٰ) کی نماز کی پابندی صرف توبہ گزار ہی کرتا ہے“، اور فرمایا: ”یہی اوّابین کی نماز ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا بكر بن مُضَر، حدثنا عمرو بن الحارث، عن بُكَير بن الأشَجِّ، عن الضَّحّاك بن عبد الله القُرشي، حدَّثه عن أنس بن مالك قال: رأيتُ رسول الله ﷺ في سَفَرٍ صلَّى سُبْحةَ الضحى ثمانيَ رَكَعات، فلما انصرف قال: "إني صليتُ صلاةَ رَغْبةٍ ورَهْبة، فسألتُ ربي ثلاثًا، فأعطاني اثنتين ومَنَعني واحدةً، سألتُه أن لا يقتلَ أمتي بالسِّنين، ففعل، وسألتُه أن لا يُظهِرَ عليهم عدوًّا، ففعل، وسألته أن لا يُلبِسَهم شِيَعًا، فأَبى عليَّ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتفقا على حديث أم هانئ في ثمان ركعاتِ الضحى فقط (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتفقا على حديث أم هانئ في ثمان ركعاتِ الضحى فقط (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک سفر کے دوران چاشت کے آٹھ نفل پڑھتے ہوئے دیکھا، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”میں نے رغبت اور خوف کے ساتھ یہ نماز پڑھی ہے، اور میں نے اپنے رب سے تین چیزوں کا سوال کیا تھا، تو اللہ نے مجھے دو عطا فرما دیں اور ایک سے روک دیا، میں نے سوال کیا کہ وہ میری امت کو قحط سالی سے ہلاک نہ کرے تو اللہ نے یہ قبول فرما لیا، میں نے سوال کیا کہ ان پر کوئی بیرونی دشمن غالب نہ آئے تو اللہ نے یہ بھی قبول فرما لیا، اور میں نے سوال کیا کہ وہ انہیں آپس میں فرقوں میں تقسیم نہ کرے تو اللہ نے اس سے منع فرما دیا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کی آٹھ رکعات والی حدیث پر اتفاق کیا ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کی آٹھ رکعات والی حدیث پر اتفاق کیا ہے۔
حدثنا أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا أبو قِلَابة، حدثنا أبو عاصم، أخبرنا ابن جُريج، أخبرني عثمان بن أبي سليمان، أنَّ أبا سلمة بن عبد الرحمن أخبره، أنَّ عائشة أخبرته: أنَّ رسول الله ﷺ لم يَمُتْ حتى كان أكثرُ صلاته جالسًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات اس وقت تک نہیں ہوئی جب تک کہ آپ ﷺ کی اکثر نمازیں بیٹھ کر نہیں ہونے لگی تھیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!