کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جب عید اور جمعہ ایک ہی دن جمع ہو جائیں تو کیا طریقہ اختیار کیا جائے۔
أخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيبانيُّ بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهريّ، حدثنا مالك بن إسماعيل، حدثنا إسرائيل، حدثنا عثمان بن المغيرة الثَّقَفيّ، عن إِياس بن أبي رَمْلةَ الشَّاميِّ، قال: شَهِدتُ مُعاويةَ بن أبي سفيان وهو يَسأل زيدَ ابنَ أرقم: هل شَهِدتَ مع رسول الله ﷺ عِيدينِ اجتمعا في يوم؟ قال: نعم، قال: كيفَ صَنَع؟ قال: صلَّى العيدَ، ثم رَخَّص في الجُمعة، فقال: "مَن شاءَ أن يُصلِّىَ فليُصلِّ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1063 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ایاس بن ابورملہ شامی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو دیکھا جب وہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھ رہے تھے کہ کیا آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایسے کسی موقع پر حاضر تھے جب ایک ہی دن میں دو عیدیں (عید اور جمعہ) اکٹھی ہو گئی ہوں؟ انہوں نے کہا: ہاں، معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: آپ ﷺ نے اس دن کیا کیا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے عید کی نماز پڑھائی اور پھر جمعہ (کی حاضری) میں رخصت دے دی اور فرمایا: ”جو شخص جمعہ پڑھنا چاہے وہ پڑھ لے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کا ایک شاہد امام مسلم کی شرط پر بھی موجود ہے:
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجمعة / حدیث: 1075
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لجهالة إياس بن أبي رملة الشامي
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لجهالة إياس بن أبي رملة الشامي، ذكره الذهبي في "الميزان"، وأشار إلى ، هذا الحديث، ونقل عن ابن المنذر تضعيفه بسبب جهالة إياس هذا، وأقره- إسرائيل: هو ابن يونس بن أبي إسحاق السبيعي-» [ترقيم الرساله 1075] [ترقيم الشركة 1067] [ترقيم العلميه 1063]
حدثنا أبو علي الحافظ، حدثنا محمد بن يحيى بن كثير الحِمْصِيُّ، حدثنا محمد بن المصفَّى، حدثنا بقيَّة، حدثنا شعبة، عن المغيرة بن مِقْسَم الضَّبِّي، عن عبد العزيز بن رُفَيع، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ قال: "قد اجتَمَعَ في يَومِكم هذا عِيدان، فمن شاء أجزأهُ مِن الجُمعة، وإنّا مجمِّعون" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فإنَّ بقيّة بن الوليد لم يُختلَف في صدقه إذا روى عن المشهورين، و
هذا حديثٌ غريب من حديث شعبة والمغيرة وعبد العزيز، وكلُّهم ممن يُجمَع حديثه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1064 - صحيح غريب
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے آج کے اس دن میں دو عیدیں جمع ہو گئی ہیں، پس جو چاہے اس کے لیے عید کی نماز جمعہ سے کافی ہو جائے گی، لیکن ہم تو جمعہ قائم کرنے والے ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، بقیہ بن ولید جب مشہور راویوں سے روایت کریں تو ان کی سچائی میں کوئی اختلاف نہیں، اور یہ شعبہ، مغیرہ اور عبدالعزیز کی روایت سے ایک غریب حدیث ہے، اور یہ سب ایسے راوی ہیں جن کی حدیث (استدلال کے لیے) جمع کی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجمعة / حدیث: 1076
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لاضطراب في إسناده
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لاضطراب في إسناده، فروي هنا من حديث أبي هريرة، ورواه ابن ماجه بالإسناد نفسه فجعله من حديث ابن عباس، وروي موصولًا ومرسلًا، وصحَّح الدارقطني في "العلل" (1984) إرساله، لأنه روي كذلك من طريق جماعة من الثقات عن عبد العزيز بن رفيع- ثم إنَّ بقية - وهو ابن الوليد ...» [ترقيم الرساله 1076] [ترقيم الشركة 1068] [ترقيم العلميه 1064]
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا علي بن الحسن الهلالي، حدثنا عبد الله بن الوليد العَدَني، حدثنا سفيان. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى، عن سفيان، عن عبد العزيز بن رُفَيع (1)، عن تميم الطائي، عن عَديِّ بن حاتم: أنَّ خطيبًا خَطَبَ عند النبي ﷺ فقال: "من يُطِع اللهَ ورسولَه فقد رَشَد، ومن يَعصِهما فقد غَوَى، فقال: "قم - أو اذهب - فبِئسَ الخطيبُ أنت" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1065 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خطیب نے نبی کریم ﷺ کے پاس خطبہ دیا اور کہا: ”جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی وہ ہدایت پا گیا اور جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی (جس کے لیے اس نے تثنیہ کی ضمیر استعمال کی) وہ گمراہ ہو گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ -یا فرمایا چلے جاؤ- تم بہت برے خطیب ہو۔““
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجمعة / حدیث: 1077
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، أبو المثنى: هو معاذ بن المثنى، ويحيى: هو ابن سعيد القطان، وسفيان: هو ابن سعيد الثوري، وتميم الطائي: هو ابن طَرَفة» [ترقيم الرساله 1077] [ترقيم الشركة 1069] [ترقيم العلميه 1065]