المستدرك على الصحيحين
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
كَيْفَ يُصْنَعُ إِذَا اجْتَمَعَ الْعِيدُ وَالْجُمُعَةُ فِي يَوْمٍ باب: جب عید اور جمعہ ایک ہی دن جمع ہو جائیں تو کیا طریقہ اختیار کیا جائے۔
حدیث نمبر: 1075
أخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيبانيُّ بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهريّ، حدثنا مالك بن إسماعيل، حدثنا إسرائيل، حدثنا عثمان بن المغيرة الثَّقَفيّ، عن إِياس بن أبي رَمْلةَ الشَّاميِّ، قال: شَهِدتُ مُعاويةَ بن أبي سفيان وهو يَسأل زيدَ ابنَ أرقم: هل شَهِدتَ مع رسول الله ﷺ عِيدينِ اجتمعا في يوم؟ قال: نعم، قال: كيفَ صَنَع؟ قال: صلَّى العيدَ، ثم رَخَّص في الجُمعة، فقال: "مَن شاءَ أن يُصلِّىَ فليُصلِّ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1063 - صحيححافظ طلحہ بابر
ایاس بن ابورملہ شامی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو دیکھا جب وہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھ رہے تھے کہ کیا آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایسے کسی موقع پر حاضر تھے جب ایک ہی دن میں دو عیدیں (عید اور جمعہ) اکٹھی ہو گئی ہوں؟ انہوں نے کہا: ہاں، معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: آپ ﷺ نے اس دن کیا کیا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے عید کی نماز پڑھائی اور پھر جمعہ (کی حاضری) میں رخصت دے دی اور فرمایا: ”جو شخص جمعہ پڑھنا چاہے وہ پڑھ لے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کا ایک شاہد امام مسلم کی شرط پر بھی موجود ہے:
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف لجهالة إياس بن أبي رملة الشامي، ذكره الذهبي في "الميزان"، وأشار إلى
هذا الحديث، ونقل عن ابن المنذر تضعيفه بسبب جهالة إياس هذا، وأقره. إسرائيل: هو ابن يونس بن أبي إسحاق السبيعي.
درجۂ حدیث: (2) ایاس بن ابی رملہ کی جہالت کی وجہ سے سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ: اسرائیل سے مراد ابن یونس بن ابی اسحاق السبیعی ہیں۔
وأخرجه أحمد 32/ (19318)، وأبو داود (1070)، وابن ماجه (1310)، والنسائي (1806) من طرق عن إسرائيل بن يونس، بهذا الإسناد. ولم يصرح في رواية ابن ماجه باسم معاوية.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (19318/32)، ابوداؤد (1070)، ابن ماجہ (1310) اور نسائی (1806) نے اسرائیل کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔
هذا الحديث، ونقل عن ابن المنذر تضعيفه بسبب جهالة إياس هذا، وأقره. إسرائيل: هو ابن يونس بن أبي إسحاق السبيعي.
درجۂ حدیث: (2) ایاس بن ابی رملہ کی جہالت کی وجہ سے سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ: اسرائیل سے مراد ابن یونس بن ابی اسحاق السبیعی ہیں۔
وأخرجه أحمد 32/ (19318)، وأبو داود (1070)، وابن ماجه (1310)، والنسائي (1806) من طرق عن إسرائيل بن يونس، بهذا الإسناد. ولم يصرح في رواية ابن ماجه باسم معاوية.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (19318/32)، ابوداؤد (1070)، ابن ماجہ (1310) اور نسائی (1806) نے اسرائیل کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1075 سے ماخوذ ہے۔