أخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَمِيم القَنطَري ببغداد، حدثنا أبو قِلَابة بن الرَّقَاشي، حدثنا أبو عاصم. وحدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيُّ بن خُزَيمة، حدثنا أبو سَلَمة موسى بن إسماعيل. وحدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا أحمد بن علي الخزَّاز، حدثنا خالد بن خِدَاش؛ قالوا: حدثنا بكَّار بن عبد العزيز بن أبي بَكْرة، عن أبيه، عن أبي بَكْرة قال: كان رسول الله ﷺ إذا أَتاه أمرٌ يَسُرُّه -أو يُسَرُّ به- خَرَّ ساجدًا شُكرًا لله ﷿ (1).
هذا حديث صحيح، وإن لم يخرجاه، فإنَّ بكَّار بن عبد العزيز صدوقٌ عند الأئمة! وإنما لم يخرجاه لشرطهما في الرواية كما ذكرناه فيما تقدَّم، وليس لعبد العزيز بن أبي بَكْرة راوٍ غيرُ ابنه بَكَّار، والله أعلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1025 - صحيح_x000D_ كِتَابُ الْجُمُعَةِ
هذا حديث صحيح، وإن لم يخرجاه، فإنَّ بكَّار بن عبد العزيز صدوقٌ عند الأئمة! وإنما لم يخرجاه لشرطهما في الرواية كما ذكرناه فيما تقدَّم، وليس لعبد العزيز بن أبي بَكْرة راوٍ غيرُ ابنه بَكَّار، والله أعلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1025 - صحيح_x000D_ كِتَابُ الْجُمُعَةِ
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جب کوئی ایسی بات آتی جس سے آپ ﷺ کو خوشی ہوتی -یا جس پر آپ ﷺ خوش ہوتے- تو آپ ﷺ اللہ عزوجل کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدے میں گر جاتے۔
یہ حدیث صحیح ہے اگرچہ شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ بکار بن عبدالعزیز ائمہ کے نزدیک صدوق ہیں، ان دونوں نے اسے اپنی شرطِ روایت کی وجہ سے نہیں لیا، اور عبدالعزیز بن ابوبکرہ سے ان کے بیٹے بکار کے علاوہ کوئی اور راوی نہیں، واللہ اعلم۔
یہ حدیث صحیح ہے اگرچہ شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ بکار بن عبدالعزیز ائمہ کے نزدیک صدوق ہیں، ان دونوں نے اسے اپنی شرطِ روایت کی وجہ سے نہیں لیا، اور عبدالعزیز بن ابوبکرہ سے ان کے بیٹے بکار کے علاوہ کوئی اور راوی نہیں، واللہ اعلم۔
حدثني الحسين بن محمد الماسَرْجِسي، حدثنا محمد بن سليمان بن فارس، حدثنا إسحاق بن منصور قال: سألتُ يحيى بنَ مَعِين عن بكَّار بن عبد العزيز ابن أبي بَكْرة، فقال: صالح الحديث (2). ولهذا الحديث شواهد يَكثُر ذِكرُها: منها: أنه ﷺ رأَى القِردَ فخَرَّ ساجدًا (1). ومنها: أنه ﷺ رأى رجلًا به زَمَانةٌ فخرَّ ساجدًا (2). ومنها: أنه ﷺ أتاه جعفرُ بن أبي طالب عند فتح خيبَرَ فخَرَّ ساجدًا (3). ومنها: أنه ﷺ رأى نُغَاشًا فخَرَّ ساجدًا (4). [كتاب الجمعة]
حافظ طلحہ بابر
یحییٰ بن معین سے بکار بن عبدالعزیز بن ابوبکرہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: وہ صالح الحدیث ہیں۔ اس حدیث کے کثیر شواہد موجود ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ آپ ﷺ نے ایک «قِرْدَ» دیکھا تو سجدے میں گر گئے، ایک یہ کہ آپ ﷺ نے ایک معذور شخص کو دیکھا تو سجدے میں گر گئے، ایک یہ کہ فتحِ خیبر کے موقع پر جب جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ سجدے میں گر گئے، اور ایک یہ کہ آپ ﷺ نے ایک بونے (ٹھنگنے شخص) کو دیکھا تو سجدے میں گر گئے۔