المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
سَجْدَةُ الشُّكْرِ باب: سجدۂ شکر کا بیان۔
حدیث نمبر: 1038
أخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَمِيم القَنطَري ببغداد، حدثنا أبو قِلَابة بن الرَّقَاشي، حدثنا أبو عاصم. وحدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيُّ بن خُزَيمة، حدثنا أبو سَلَمة موسى بن إسماعيل. وحدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا أحمد بن علي الخزَّاز، حدثنا خالد بن خِدَاش؛ قالوا: حدثنا بكَّار بن عبد العزيز بن أبي بَكْرة، عن أبيه، عن أبي بَكْرة قال: كان رسول الله ﷺ إذا أَتاه أمرٌ يَسُرُّه -أو يُسَرُّ به- خَرَّ ساجدًا شُكرًا لله ﷿ (1).
هذا حديث صحيح، وإن لم يخرجاه، فإنَّ بكَّار بن عبد العزيز صدوقٌ عند الأئمة! وإنما لم يخرجاه لشرطهما في الرواية كما ذكرناه فيما تقدَّم، وليس لعبد العزيز بن أبي بَكْرة راوٍ غيرُ ابنه بَكَّار، والله أعلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1025 - صحيح_x000D_
كِتَابُ الْجُمُعَةِحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جب کوئی ایسی بات آتی جس سے آپ ﷺ کو خوشی ہوتی -یا جس پر آپ ﷺ خوش ہوتے- تو آپ ﷺ اللہ عزوجل کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدے میں گر جاتے۔
یہ حدیث صحیح ہے اگرچہ شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ بکار بن عبدالعزیز ائمہ کے نزدیک صدوق ہیں، ان دونوں نے اسے اپنی شرطِ روایت کی وجہ سے نہیں لیا، اور عبدالعزیز بن ابوبکرہ سے ان کے بیٹے بکار کے علاوہ کوئی اور راوی نہیں، واللہ اعلم۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حسن لغيره، وفي إسناده ضعف من أجل بكّار بن عبد العزيز، لكنه يُعتبَر به في المتابعات والشواهد، وحديثه هذا في سجود الشكر له ما يشهد له من حديث غير واحد من الصحابة ذكرناها في تعليقنا على "مسند أحمد" 34/ (20455) و"سنن أبي داود" (2774).
درجۂ حدیث: (1) یہ "حسن لغیرہ" ہے۔ بکار بن عبدالعزیز اگرچہ ضعیف ہیں مگر متابعت میں معتبر ہیں۔ سجدہ شکر کے بارے میں اس کے کئی شواہد موجود ہیں (مسند احمد 20455/34 وغیرہ)۔
وأما حديث بكار هذا فقد أخرجه أبو داود (2774)، وابن ماجه (1394)، والترمذي (1578) من طرق عن أبي عاصم -وهو الضحاك بن مخلد- بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن غريب لا نعرفه إلّا من هذا الوجه من حديث بكار بن عبد العزيز، والعمل على هذا عند أكثر أهل العلم: رأَوا سجدة الشكر، وبكّار بن عبد العزيز بن أبي بكرة مقارِب الحديث.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (2774)، ابن ماجہ (1394) اور ترمذی (1578) نے ابوعاصم (الضحاک بن مخلد) کی سند سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حسن غریب" کہا اور فرمایا کہ اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
وسيأتي بأطول ممّا هنا عند المصنف برقم (7983).
تکرار: یہ آگے تفصیلاً نمبر (7983) پر آئے گی۔
درجۂ حدیث: (1) یہ "حسن لغیرہ" ہے۔ بکار بن عبدالعزیز اگرچہ ضعیف ہیں مگر متابعت میں معتبر ہیں۔ سجدہ شکر کے بارے میں اس کے کئی شواہد موجود ہیں (مسند احمد 20455/34 وغیرہ)۔
وأما حديث بكار هذا فقد أخرجه أبو داود (2774)، وابن ماجه (1394)، والترمذي (1578) من طرق عن أبي عاصم -وهو الضحاك بن مخلد- بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن غريب لا نعرفه إلّا من هذا الوجه من حديث بكار بن عبد العزيز، والعمل على هذا عند أكثر أهل العلم: رأَوا سجدة الشكر، وبكّار بن عبد العزيز بن أبي بكرة مقارِب الحديث.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (2774)، ابن ماجہ (1394) اور ترمذی (1578) نے ابوعاصم (الضحاک بن مخلد) کی سند سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حسن غریب" کہا اور فرمایا کہ اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
وسيأتي بأطول ممّا هنا عند المصنف برقم (7983).
تکرار: یہ آگے تفصیلاً نمبر (7983) پر آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1038 سے ماخوذ ہے۔