حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا علي بن الحسن بن أبي عيسى، مُعلَّى بن أَسَد، حدثنا وُهَيب، عن محمد بن عَجْلان، عن محمد بن إبراهيم التَّيْمي، عن عامر بن سعد، عن أبيه قال: أَمَرَ رسول الله ﷺ بوَضْعِ اليدين ونَصْبِ القدمين في الصلاة (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وقد صَحَّ على شرطه بلفظٍ أشْفَى من هذا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 999 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وقد صَحَّ على شرطه بلفظٍ أشْفَى من هذا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 999 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
عامر بن سعد اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں دونوں ہاتھ (زمین پر) رکھنے اور دونوں قدموں کو (انگلیوں کے بل) کھڑا رکھنے کا حکم دیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور امام مسلم ہی کی شرط پر اس سے زیادہ واضح الفاظ کے ساتھ یہ حدیث صحیح ثابت ہے:
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور امام مسلم ہی کی شرط پر اس سے زیادہ واضح الفاظ کے ساتھ یہ حدیث صحیح ثابت ہے:
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا عبد الرحمن بن المبارك، حدثنا وُهَيب، عن محمد بن عَجْلان قال: أخبرني محمد بن إبراهيم التَّيْمي، عن عامر بن سعد بن مالك، عن أبيه قال: أَمَرَ رسول الله ﷺ بوَضْعِ الكفَّين ونَصْبِ القدمين في الصلاة (1).
حافظ طلحہ بابر
عامر بن سعد بن مالک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں دونوں ہتھیلیاں (زمین پر) رکھنے اور دونوں قدموں کو کھڑا رکھنے کا حکم دیا۔
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضْر الأزْدي، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زائدة، عن أبي حمزة، عن أبي صالح قال: كنت عند أمِّ سَلَمة، فدَخَلَ عليها ذو قَرابةٍ لها شابٌّ ذو جُمَّةٍ، فقام يصلِّي فنَفَخَ، فقالت: يا بُنيَّ، لا تَنفُخْ، فإني سمعت رسول الله ﷺ يقول لعبدٍ لنا أسود: "أيْ رباحُ، تَرِّبْ وجهَك" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1001 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1001 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ابوصالح کہتے ہیں کہ میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا کہ ان کا ایک نوجوان رشتہ دار جس کے سر پر لمبے بال تھے اندر آیا اور نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوا تو (سجدہ گاہ سے مٹی ہٹانے کے لیے) پھونک مارنے لگا، انہوں نے کہا: اے میرے بیٹے! پھونک نہ مارو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے ایک سیاہ فام غلام سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اے رباح! اپنے چہرے کو خاک آلود کر (یعنی مٹی نہ جھاڑ)۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله التاجر، حدثنا أبو حاتم الرازِيّ. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن سليمان بن الحارث؛ قالا: حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قَتَادة، عن الحسن، عن سَمُرة بن جُندُب قال: نهى رسول الله ﷺ أن يَستوفِز الرجلُ في صلاته (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1002 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1002 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں «استيفاز» (یعنی بے چینی سے سجدہ کرنے یا اعضاء کو پوری طرح زمین پر نہ ٹکانے) سے منع فرمایا ہے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، حدثنا يوسف بن يعقوب القاضي، حدثنا نَصْر بن علي، حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة، عن العلاء بن المسيِّب، عن عمرو ابن مُرَّة، عن طلحة بن يزيد عن حُذَيفة: أنَّ رسول الله ﷺ كان يقول إذا رفع رأسَه من السجود: "ربِّ اغفِرْ لي" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1003 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1003 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سجدے سے اپنا سر اٹھاتے تو یہ دعا مانگتے تھے: «رَبِّ اغْفِرْ لِي» ”اے میرے رب! مجھے بخش دے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔