حدیث نمبر: 1012
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا علي بن الحسن بن أبي عيسى، مُعلَّى بن أَسَد، حدثنا وُهَيب، عن محمد بن عَجْلان، عن محمد بن إبراهيم التَّيْمي، عن عامر بن سعد، عن أبيه قال: أَمَرَ رسول الله ﷺ بوَضْعِ اليدين ونَصْبِ القدمين في الصلاة (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وقد صَحَّ على شرطه بلفظٍ أشْفَى من هذا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 999 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

عامر بن سعد اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں دونوں ہاتھ (زمین پر) رکھنے اور دونوں قدموں کو (انگلیوں کے بل) کھڑا رکھنے کا حکم دیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور امام مسلم ہی کی شرط پر اس سے زیادہ واضح الفاظ کے ساتھ یہ حدیث صحیح ثابت ہے:

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 1012
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا الحديث قد اختُلف فيه على محمد بن عجلان في وصله وإرساله، والمرسل من حديث عامر بن سعد عن النبي ﷺ أصحُّ كما قال الترمذي وأبو حاتم في "العلل" (318)، والدارقطني في "العلل" أيضًا 4/ 344 - 1346 (616)، فجمهور أصحاب ابن عجلان قد رووه عنه مرسلًا-» [ترقيم الرساله 1012] [ترقيم الشركة 1004] [ترقيم العلميه 999]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح لغيره، وهذا الحديث قد اختُلف فيه على محمد بن عجلان في وصله وإرساله، والمرسل من حديث عامر بن سعد عن النبي ﷺ أصحُّ كما قال الترمذي وأبو حاتم في "العلل" (318)، والدارقطني في "العلل" أيضًا 4/ 344 - 1346 (616)، فجمهور أصحاب ابن عجلان قد رووه عنه مرسلًا.
درجۂ حدیث: (1) یہ "صحیح لغیرہ" ہے، مگر راجح یہ ہے کہ یہ عامر بن سعد کی نبی ﷺ سے "مرسل" روایت ہے جیسا کہ ترمذی اور ابوحاتم نے کہا۔
وأخرجه الترمذي (277) عن عبد الله بن عبد الرحمن -وهو الدارمي- عن معلَّى بن أسد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (277) نے معلی بن اسد عن ابن عجلان کی سند سے روایت کیا ہے۔
ثم رواه الترمذي (278) مرة أخرى عن عبد الله بن عبد الرحمن عن المعلَّى عن حماد بن مَسعَدة -وهو ثقة- عن ابن عجلان مرسلًا، لم يذكر فيه سعدًا: وهو ابن أبي وقّاص. ثم أشار إلى أنه رواه هكذا مرسلًا غيرُ واحد عن ابن عجلان، وقال: وهذا أصحُّ من حديث وُهيب، وهو الذي أجمع عليه أهل العلم واختاروه. قلنا: يعني وضع اليدين ونصب القدمين.
علّت / فنی نکتہ: امام ترمذی نے ایک اور جگہ اسے "مرسل" روایت کر کے اسے ہی زیادہ صحیح قرار دیا ہے اور فرمایا کہ اہل علم نے اسی پر اتفاق کیا ہے کہ سجدے میں ہاتھ زمین پر ہوں اور پاؤں کھڑے رہیں۔
وله شاهد من حديث أبي حميد الساعدي عند البخاري (828) في وصف صلاة النبي ﷺ، وفيه: فإذا سجد وضع يديه غير مفترش ولا قابضهما، واستقبل بأطراف أصابع رجليه القِبلة.
متابعات و شواہد: ابوحمید الساعدی کی بخاری (828) میں صفتِ نماز کی حدیث اس کی شاہد ہے کہ آپ ﷺ سجدے میں ہاتھ رکھتے اور پاؤں کی انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف کرتے تھے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1012 سے ماخوذ ہے۔