کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: اللہ نے ہماری طرف محمد ﷺ کو بھیجا جبکہ ہم کچھ نہیں جانتے تھے، پس ہم وہی کرتے ہیں جو ہم نے محمد ﷺ کو کرتے دیکھا۔
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا عُبيد بن شَرِيك، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثني الليث، عن ابن شِهاب، عن عبد الله بن أبي بكر بن عبد الرحمن، عن أُميَّة بن عبد الله بن خالد، أنه قال لعبد الله بن عمر: إنا نَجِدُ صلاةَ الحَضَر وصلاةَ الخوف في القرآن، ولا نجدُ صلاةَ السَّفر في القرآن! فقال عبد الله: يا ابنَ أخي، إنَّ الله بَعَثَ إلينا محمدًا ﷺ ولا نَعلمُ شيئًا، فإنما نفعلُ كما رأَينا محمدًا يفعلُ (2).
هذا حديث رواتُه مدنيُّون ثِقات، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 946 - رواته ثقات مدنيون
حافظ طلحہ بابر
امیہ بن عبداللہ بن خالد بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ہمیں قرآن میں مقیم کی نماز اور خوف کی نماز کا ذکر تو ملتا ہے لیکن سفر کی نماز کا ذکر نہیں ملتا (کہ اسے قصر کرنا ہے)؟ سیدنا عبداللہ بن عمر نے فرمایا: اے بھتیجے! اللہ نے محمد ﷺ کو ہماری طرف بھیجا جبکہ ہم کچھ نہیں جانتے تھے، ہم تو بس وہی کرتے ہیں جو ہم نے محمد ﷺ کو کرتے دیکھا ہے۔
اس کے تمام راوی مدنی اور ثقہ ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 959
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي،،» [ترقيم الرساله 959] [ترقيم الشركة 952] [ترقيم العلميه 946]
أخبرني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيُّ بن خُزَيمة، حدثنا محمد (1) بن سعيد بن الأصبَهاني، حدثنا حفص بن غِيَاث عن حُمَيد بن قيس، عن عبد الله بن شَقِيق، عن عائشة قالت: رأيتُ رسولَ الله ﷺ يصلِّي متربِّعًا (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 947 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو چار زانو (آلتی پالتی مار کر) بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 960
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وقوله في هذا الإسناد: حميد بن قيس، وهمٌ، فإنَّ المعروف بالرواية عن عبد الله بن شقيق هو حميد الطويل، وقد جاء منسوبًا على الصواب عند النسائي (1367) وابن حبان (2512)، وهو الذي صوَّبه الحافظ ابن حجر في "تهذيب التهذيب" في ترجمة حميد بن طرخان-» [ترقيم الرساله 960] [ترقيم الشركة 953] [ترقيم العلميه 947]