المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ إِلَيْنَا مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - وَلَا نَعْلَمُ شَيْئًا فَإِنَّمَا نَفْعَلُ كَمَا رَأَيْنَا مُحَمَّدًا يَفْعَلُ باب: اللہ نے ہماری طرف محمد ﷺ کو بھیجا جبکہ ہم کچھ نہیں جانتے تھے، پس ہم وہی کرتے ہیں جو ہم نے محمد ﷺ کو کرتے دیکھا۔
حدیث نمبر: 960
أخبرني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيُّ بن خُزَيمة، حدثنا محمد (1) بن سعيد بن الأصبَهاني، حدثنا حفص بن غِيَاث عن حُمَيد بن قيس، عن عبد الله بن شَقِيق، عن عائشة قالت: رأيتُ رسولَ الله ﷺ يصلِّي متربِّعًا (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 947 - على شرطهماحافظ طلحہ بابر
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو چار زانو (آلتی پالتی مار کر) بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف "محمد" في النسخ الخطية إلى: عمر.
فنی نکتہ: (1) نسخوں میں "محمد" کا نام "عمر" ہو گیا تھا۔
(2) إسناده صحيح. وقوله في هذا الإسناد: حميد بن قيس، وهمٌ، فإنَّ المعروف بالرواية عن عبد الله بن شقيق هو حميد الطويل، وقد جاء منسوبًا على الصواب عند النسائي (1367) وابن حبان (2512)، وهو الذي صوَّبه الحافظ ابن حجر في "تهذيب التهذيب" في ترجمة حميد بن طرخان.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: اس سند میں "حمید بن قیس" کہنا وہم ہے، کیونکہ عبداللہ بن شقیق سے روایت کرنے والے مشہور راوی "حمید الطویل" ہیں، جیسا کہ نسائی اور ابن حبان کے ہاں صراحت موجود ہے اور ابن حجر نے بھی اسی کی تصحیح کی ہے۔
وسيأتي الحديث برقم (1034) من طريق أبي داود الحفري عن حفص بن غياث.
تکرار: یہ آگے نمبر (1034) پر ابوداؤد الحفری عن حفص بن غیاث کی سند سے آئے گی۔
فنی نکتہ: (1) نسخوں میں "محمد" کا نام "عمر" ہو گیا تھا۔
(2) إسناده صحيح. وقوله في هذا الإسناد: حميد بن قيس، وهمٌ، فإنَّ المعروف بالرواية عن عبد الله بن شقيق هو حميد الطويل، وقد جاء منسوبًا على الصواب عند النسائي (1367) وابن حبان (2512)، وهو الذي صوَّبه الحافظ ابن حجر في "تهذيب التهذيب" في ترجمة حميد بن طرخان.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: اس سند میں "حمید بن قیس" کہنا وہم ہے، کیونکہ عبداللہ بن شقیق سے روایت کرنے والے مشہور راوی "حمید الطویل" ہیں، جیسا کہ نسائی اور ابن حبان کے ہاں صراحت موجود ہے اور ابن حجر نے بھی اسی کی تصحیح کی ہے۔
وسيأتي الحديث برقم (1034) من طريق أبي داود الحفري عن حفص بن غياث.
تکرار: یہ آگے نمبر (1034) پر ابوداؤد الحفری عن حفص بن غیاث کی سند سے آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 960 سے ماخوذ ہے۔