حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن حاتم الزاهد، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم بن سعيد العَبْدي، حدثنا يوسف بن عَدِيٍّ، حدثنا مُبشِّر بن إسماعيل الحَلَبي سنة خمس وسبعين، عن الأوزاعي. وحدثنا أبو علي الحسين بن الحافظ، أخبرنا محمد بن الحسين بن مُكرَم بالبصرة، حدثنا عمرو بن علي، حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا الأوزاعي، عن قُرَّة بن عبد الرحمن بن حَيْوِيل، عن الزُّهْري، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "حَذْفُ السلامِ سُنَّة" (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد استَشهَد بقُرَّة بن عبد الرحمن في موضعين من كتابه، وقد أَوقَفَ عبدُ الله بن المبارَك هذا الحديث عن الأوزاعي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 842 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد استَشهَد بقُرَّة بن عبد الرحمن في موضعين من كتابه، وقد أَوقَفَ عبدُ الله بن المبارَك هذا الحديث عن الأوزاعي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 842 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "سلام میں حذف کرنا (یعنی اسے بہت طویل نہ کھینچنا) سنت ہے۔"
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے قرہ بن عبد الرحمن سے اپنی کتاب میں دو مقامات پر استشہاد کیا ہے۔ اور عبد اللہ بن مبارک نے یہ حدیث اوزاعی سے موقوفاً روایت کی ہے:
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے قرہ بن عبد الرحمن سے اپنی کتاب میں دو مقامات پر استشہاد کیا ہے۔ اور عبد اللہ بن مبارک نے یہ حدیث اوزاعی سے موقوفاً روایت کی ہے:
أخبرَناه أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيّاري، حدثنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، عن الأوزاعي، عن قُرَّةَ بن عبد الرحمن، عن الزُّهْري، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: حذفُ السلامِ سُنَّة (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے (موقوفاً) مروی ہے:
سلام میں اختصار (حذف) کرنا سنت ہے۔
سلام میں اختصار (حذف) کرنا سنت ہے۔
سألتُ أبا زكريا العَنبَري - وحدثنا به عن أبي عبد الله البُوشَنْجي - عن حذف السلام، قال: أن لا يمدَّ السلامَ ويَحذِفَه.
حافظ طلحہ بابر
میں نے ابو زکریا عنبری سے، اور انہوں نے ہمیں یہ بات ابو عبد اللہ بوشنجی سے بھی بیان کی، سلام میں «حَذْف» (اختصار) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ کہ سلام کو لمبا نہ کھینچا جائے بلکہ اسے مختصر رکھا جائے۔