مستدرکِ حاکم
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
حَذْفُ السَّلَامِ سُنَّةٌ باب: سلام کو مختصر کہنا سنت ہے۔
حدیث نمبر: 939
أخبرَناه أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيّاري، حدثنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، عن الأوزاعي، عن قُرَّةَ بن عبد الرحمن، عن الزُّهْري، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: حذفُ السلامِ سُنَّة (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے (موقوفاً) مروی ہے: سلام میں اختصار (حذف) کرنا سنت ہے۔
سألتُ أبا زكريا العَنبَري - وحدثنا به عن أبي عبد الله البُوشَنْجي - عن حذف السلام، قال: أن لا يمدَّ السلامَ ويَحذِفَه.
حافظ طلحہ بابر
میں نے ابو زکریا عنبری سے، اور انہوں نے ہمیں یہ بات ابو عبد اللہ بوشنجی سے بھی بیان کی، سلام میں «حَذْف» (اختصار) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ کہ سلام کو لمبا نہ کھینچا جائے بلکہ اسے مختصر رکھا جائے۔
سألتُ أبا زكريا العَنبَري - وحدثنا به عن أبي عبد الله البُوشَنْجي - عن حذف السلام، قال: أن لا يمدَّ السلامَ ويَحذِفَه.
حافظ طلحہ بابر
میں نے ابو زکریا عنبری سے، اور انہوں نے ہمیں یہ بات ابو عبد اللہ بوشنجی سے بھی بیان کی، سلام میں «حَذْف» (اختصار) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ کہ سلام کو لمبا نہ کھینچا جائے بلکہ اسے مختصر رکھا جائے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف كسابقه.
درجۂ حدیث: (1) سابقہ روایت کی طرح سند ضعیف ہے۔
وأخرجه الترمذي (297) عن علي بن حُجْر، عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد. وقرن بابن المبارك هِقلَ بنَ زياد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (297) نے ابن المبارک اور ہقل بن زیاد کی سند سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔
درجۂ حدیث: (1) سابقہ روایت کی طرح سند ضعیف ہے۔
وأخرجه الترمذي (297) عن علي بن حُجْر، عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد. وقرن بابن المبارك هِقلَ بنَ زياد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (297) نے ابن المبارک اور ہقل بن زیاد کی سند سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 939 سے ماخوذ ہے۔