أخبرنا أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببُخارَى، حدثنا سهل بن المتوكِّل البُخاري، حدثنا العلاء بن عبد الجبار العطَّار، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا الحسن بن عُبيد الله، عن عبد الرحمن بن الأسوَد، عن أبيه، عن عبد الله قال: من سُنَّة الصلاة أن يُخفِيَ التشهُّدَ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح عن عائشة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 838 - على شرطهما وله شاهد صحيح
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح عن عائشة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 838 - على شرطهما وله شاهد صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نماز کی سنت میں سے یہ ہے کہ تشہد کو آہستہ (سرگوشی میں) پڑھا جائے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكِّي، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا أبو كُرَيب، حدثنا حفص بن غِيَاث، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: نزلت هذه الآيةُ في التشهُّد ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [الإسراء: 110] (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ آیت: "اور نہ تم اپنی نماز (کی قرأت) بہت بلند آواز میں کرو اور نہ بالکل آہستہ" تشہد کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
اس کی سند صحیح ہے اور اس کے شواہد موجود ہیں۔
اس کی سند صحیح ہے اور اس کے شواہد موجود ہیں۔