کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: عورتوں کے لیے سب سے بہتر مسجد ان کے گھروں کا اندرونی حصہ ہے۔
ما حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرنا عمرو بن الحارث، أنَّ درَّاجًا أبا السَّمْح حدَّثه عن السائب مولى أم سَلَمة، عن أم سَلَمة زوجِ النبي ﷺ، عن النبي ﷺ: "خيرُ مساجدِ النساء قَعْرُ بيوتِهنَّ" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 756 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 756 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”عورتوں کے لیے بہترین نماز کی جگہ ان کے گھروں کا اندرونی حصہ ہے۔“
یہ پچھلی حدیث کا شاہد ہے۔
یہ پچھلی حدیث کا شاہد ہے۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن أحمد الزاهد الأصبهاني، حدثنا أحمد بن مَهْدي بن رُسْتُم الأصبهاني، حدثنا عمرو بن عاصم الكِلَابي، حدثنا همَّام، عن قَتَادة، عن مُوَرِّق، عن أبي الأحوَص، عن عبد الله، عن النبي ﷺ قال: "صلاةُ المرأة في بيتها أفضلُ من صلاتها في حُجْرتِها، وصلاتُها في مَخدَعِها أفضلُ من صلاتها في بيتها" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وقد احتجَّا جميعًا بالمورِّق بن مُشَمرِج العِجْلي.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 757 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وقد احتجَّا جميعًا بالمورِّق بن مُشَمرِج العِجْلي.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 757 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”عورت کا (اندرونی) کمرے میں نماز پڑھنا اس کے (باہر والے) کمرے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور اس کا اپنی کوٹھڑی (نہایت چھپے ہوئے حصے) میں نماز پڑھنا اس کے کمرے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ انہوں نے مورق بن مشمرج عجلی سے احتجاج کیا ہے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ انہوں نے مورق بن مشمرج عجلی سے احتجاج کیا ہے۔