المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
خَيْرُ مَسَاجِدِ النِّسَاءِ قَعْرُ بُيُوتِهِنَّ باب: عورتوں کے لیے سب سے بہتر مسجد ان کے گھروں کا اندرونی حصہ ہے۔
حدیث نمبر: 851
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن أحمد الزاهد الأصبهاني، حدثنا أحمد بن مَهْدي بن رُسْتُم الأصبهاني، حدثنا عمرو بن عاصم الكِلَابي، حدثنا همَّام، عن قَتَادة، عن مُوَرِّق، عن أبي الأحوَص، عن عبد الله، عن النبي ﷺ قال: "صلاةُ المرأة في بيتها أفضلُ من صلاتها في حُجْرتِها، وصلاتُها في مَخدَعِها أفضلُ من صلاتها في بيتها" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وقد احتجَّا جميعًا بالمورِّق بن مُشَمرِج العِجْلي.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 757 - على شرطهماحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”عورت کا (اندرونی) کمرے میں نماز پڑھنا اس کے (باہر والے) کمرے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور اس کا اپنی کوٹھڑی (نہایت چھپے ہوئے حصے) میں نماز پڑھنا اس کے کمرے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ انہوں نے مورق بن مشمرج عجلی سے احتجاج کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل عمرو بن عاصم: وهو أبو عثمان البصري. همام: هو ابن يحيى العَوْذي، ومورِّق: هو العِجْلي، وأبو الأحوص: هو عوف بن مالك.
درجۂ حدیث: (1) عمرو بن عاصم کی وجہ سے سند "حسن" ہے۔
فنی نکتہ: ہمام سے مراد ابن یحییٰ، مورق سے مراد العجلی اور ابوالاحوص سے مراد عوف بن مالک ہیں۔
وأخرجه أبو داود (570) عن محمد بن المثنى، عن عمرو بن عاصم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (570) نے محمد بن مثنیٰ عن عمرو بن عاصم کی سند سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: (1) عمرو بن عاصم کی وجہ سے سند "حسن" ہے۔
فنی نکتہ: ہمام سے مراد ابن یحییٰ، مورق سے مراد العجلی اور ابوالاحوص سے مراد عوف بن مالک ہیں۔
وأخرجه أبو داود (570) عن محمد بن المثنى، عن عمرو بن عاصم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (570) نے محمد بن مثنیٰ عن عمرو بن عاصم کی سند سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 851 سے ماخوذ ہے۔