کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: تم میں سے ہر شخص اپنی نماز کے لیے سترہ قائم کرے، چاہے تیر ہی کیوں نہ ہو۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، حدثنا حَرمَلة بن عبد العزيز بن الرَّبيع بن سَبْرة بن مَعبَد، عن أبيه، عن جدِّه (4) قال: قال رسول الله ﷺ: "ليَستُرْ أحدُكم صلاتَه ولو بسَهْم" (5).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سبرہ بن معبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ اپنی نماز کے لیے سترا (آڑ) بنائے خواہ ایک تیر کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔“
حدثنا أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا أحمد بن يونس. وأخبرنا أبو العباس السَّيّاري بمَرْو وأبو إسحاق إبراهيم بن محمد البخاري بنيسابور، قالا: حدثنا أبو الموجِّه، أخبرنا عبدانُ. وحدثنا أحمد بن الليث الكَرْمِيني، حدثنا محمد بن الضَّوْء، حدثنا محمد بن أبي رجاء ومحمد بن عثمان العُثْماني؛ قالوا: حدثنا إبراهيم بن سَعْد، عن عبد الملك بن عبد العزيز بن الربيع بن سَبْرة الجُهَني (2)، عن أبيه، عن جدِّه قال: قال رسول الله ﷺ: "استَتِروا في صلاتكم ولو بسَهْم" (3). هذا صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 926 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 926 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی نماز میں سترا حاصل کرو خواہ ایک تیر کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى - يعني ابن سعيد - عن ابن أبي ذِئْب، عن عبد الرحمن بن مِهْران، عن عبد الرحمن بن سعد، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "الأبعدُ فالأبعدُ من المسجد أعظمُ أجرًا" (1).
هذا حديث صحيح رواته مدنيُّون، ويحيى بن سعيد: هو الإمامُ في انتقاد الرجال، ولم يُخرجاه إذ لم يُرْوَ بغير هذا الإسناد.
هذا حديث صحيح رواته مدنيُّون، ويحيى بن سعيد: هو الإمامُ في انتقاد الرجال، ولم يُخرجاه إذ لم يُرْوَ بغير هذا الإسناد.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مسجد سے جس کا گھر جتنا زیادہ دور ہوگا اس کا اجر اتنا ہی زیادہ ہوگا۔“
یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے تمام راوی مدنی ہیں، امام حاکم فرماتے ہیں کہ شیخین نے اسے اس لیے نہیں لیا کیونکہ یہ صرف اسی ایک سند سے مروی ہے۔
یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے تمام راوی مدنی ہیں، امام حاکم فرماتے ہیں کہ شیخین نے اسے اس لیے نہیں لیا کیونکہ یہ صرف اسی ایک سند سے مروی ہے۔