أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد (2) بن يونس الضَّبِّي، حدثنا يحيى بن أبي بُكَير، حدثنا أبو جعفر الرازي، حدثنا حُصين بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن شدَّاد، عن ابن أمِّ مكتوم: أنَّ رسول الله ﷺ استَقبَل الناسَ في صلاة العشاء فقال: "لقد هَمَمتُ أن آتِيَ هؤلاءِ الذين يتخلَّفون عن هذه الصلاة فأُحرِّقَ عليهم بيوتَهم"، فقام ابن أم مكتوم فقال: يا رسول الله، لقد علمتَ ما بي، وليس لي قائد، قال: "أتسمعُ الإقامةَ؟ " قال: نعم، قال: "احضُرْها" قال: يا رسول الله، إنَّ بيني وبينها نخلًا وشجرًا، وليس لي قائد، قال: "أتسمعُ الإقامة؟ " قال: نعم، قال: "فاحضُرْها"، ولم يُرخِّص له (1). وله شاهد آخر من حديث عاصم بن بَهْدلة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز میں لوگوں کی طرف رخ کر کے فرمایا: ”میرا ارادہ ہوا کہ میں ان لوگوں کے پاس جاؤں جو اس نماز سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور ان کے گھروں کو ان پر آگ لگا کر جلا دوں۔“ تو سیدنا ابن ام مکتوم کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو میرے حال کا علم ہے، میں نابینا ہوں اور میرا کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم اقامت کی آواز سنتے ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر حاضر ہوا کرو۔“ انہوں نے (دوبارہ) عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے اور مسجد کے درمیان کھجور کے درخت اور جھاڑیاں ہیں اور میرا کوئی مستقل قائد نہیں ہے، آپ ﷺ نے (پھر) پوچھا: ”کیا تم اقامت سنتے ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر حاضر ہوا کرو،“ اور آپ ﷺ نے انہیں (گھر میں نماز کی) رخصت نہیں دی۔
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي. وحدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا أبو خَليفة؛ قالا: حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حمّاد، عن عاصم بن بَهدَلة، عن أبي رَزيِنٍ، عن ابن أمِّ مكتوم: أنه سأل النبيَّ ﷺ فقال: يا رسول الله، إنِّي رجلٌ ضريرُ البصر، شاسعُ الدار، وليس لي قائدٌ يُلائمني، فهل لي رُخصةٌ أن أصلِّيَ في بيتي؟ قال: "هل تسمعُ النِّداء؟ " قال: نعم، قال: "لا أجدُ لك رخصةً" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: یا رسول اللہ! میں بصارت سے محروم ہوں، میرا گھر دور ہے اور میرا کوئی ایسا قائد نہیں ہے جو میرے موافق ہو، تو کیا مجھے گھر میں نماز پڑھنے کی رخصت ہے؟ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم اذان سنتے ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہارے لیے کوئی رخصت نہیں پاتا۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس کا شاہد عاصم بن بہدلہ کی روایت سے بھی موجود ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس کا شاہد عاصم بن بہدلہ کی روایت سے بھی موجود ہے۔