کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: کسی بستی یا جنگل میں تین آدمی ہوں اور جماعت قائم نہ کریں تو شیطان ان پر غالب آ جاتا ہے، اس لیے جماعت کو لازم پکڑو۔
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه أخبرنا العباس بن الفضل الأَسْفاطي، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا زائدة، حدثنا السائب بن حُبَيش (1)، عن مَعْدان بن أبي طلحة اليَعمَري، عن أبي الدَّرداء قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "ما من ثلاثةٍ في قريةٍ ولا في بَدْوٍ لا تقامُ فيهم الصلاةُ، إلّا قد استَحوذَ عليهم الشيطانُ"، فعليك بالجماعة (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 900 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 900 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”کسی بستی یا ریگستان میں جب تین آدمی ہوں اور وہ (مل کر) نماز قائم نہ کریں، تو ان پر شیطان غالب آ جاتا ہے،“ پس تم جماعت کو لازم پکڑو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني أحمد بن منصور بن عيسى الحافظ المزكِّي، بالطابَرَانِ، حدثنا أبو بكر محمد بن إسحاق، حدثنا علي بن سهل الرَّمْلي، حدثنا زيد بن أبي الزَّرقاء، عن سفيان، عن عبد الرحمن بن عابس، عن ابن أمِّ مكتوم قال: قلت: يا رسول الله إنَّ المدينة كثيرةُ الهَوَامِّ والسِّباع، قال: "تسمعُ: حيَّ على الصلاة، حيَّ على الفلاح؟ " قال: نعم، قال: "فحيَّ هَلَا" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه، إن كان ابن عابس سَمِعَ من ابن أمِّ مكتوم. وله شاهد بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 901 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه، إن كان ابن عابس سَمِعَ من ابن أمِّ مكتوم. وله شاهد بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 901 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مدینہ میں زہریلے جانور اور درندے بہت ہیں (اور میں نابینا ہوں)، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» سنتے ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر (مسجد) آیا کرو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس کا شاہد بھی صحیح سند کے ساتھ موجود ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس کا شاہد بھی صحیح سند کے ساتھ موجود ہے۔