❮
❯
حدیث نمبر: 784
أخبرَناه أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن إبراهيم الحافظ بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا أبو تَوْبة الرَّبيع بن نافع، حدثنا معاوية بن سلَّام، أخبرني زيد بن سلّام، أنه سمع أبا سلّام يقول: حدَّثني أبو كَبْشة السَّلُولي، أنه حدَّثه عن سهل بن الحنظليَّة قال: لمَّا سارَ رسولُ الله ﷺ إلى حُنَين قال: "ألَا رجلٌ يَكلَوُنا الليلةَ! " فقال أنس بن أبي مَرثَد الغَنَوي: أنا يا رسول الله، قال: "انطلِقْ" فلما كان الغدُ خرج النبيُّ ﷺ فقال: "هل حَسَستُم فارسَكم؟ " قالوا: لا، فجعل النبيُّ ﷺ يصلِّي ويَلتِفتُ إلى الشِّعْب، فلما سلَّم قال: "إنَّ فارسَكم قد أقبَلَ"، فلما جاء قال: "لعلَّكَ نَزَلتَ؟ " قال: لا، إلّا مصلِّيًا أو قاضيًا حاجةً، ثم قال: إني اطَّلعتُ الشَّعبَينِ فإِذا هَوازِنُ بِظُعُنِهم وشائِهم ونَعَمِهم متوجِّهون إلى حُنَيْنٍ، فقال رسول الله ﷺ: "غَنيمةٌ للمسلمين غدًا إن شاء الله" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 865 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ حنین کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا: ”کیا کوئی شخص ہے جو آج رات ہماری نگہبانی کرے؟“ سیدنا انس بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں (حاضر ہوں)، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ۔“ اگلے دن نبی کریم ﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”کیا تمہیں اپنے شہسوار کی کوئی خبر ملی؟“ لوگوں نے عرض کیا: نہیں، چنانچہ نبی کریم ﷺ نماز پڑھنے لگے اور (نماز کے دوران) گھاٹی کی طرف دیکھتے رہے (تاکہ پہرے دار کی خبر لیں)، جب سلام پھیرا تو فرمایا: "تمہارا شہسوار آ چکا ہے،" جب وہ آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”شاید تم (کہیں سواری سے) اترے تھے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، سوائے نماز پڑھنے یا قضائے حاجت کے، پھر انہوں نے کہا: میں نے دونوں گھاٹیوں پر چڑھ کر دیکھا تو ہوازن اپنی ہودج نشین عورتوں، بکریوں اور اونٹوں سمیت حنین کی طرف بڑھ رہے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «غَنِيمَةٌ لِلْمُسْلِمِينَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ.» ”ان شاء اللہ یہ کل مسلمانوں کے لیے غنیمت ہو گا۔“

حوالہ حدیث مستدرکِ حاکم / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 784
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 784] [ترقيم الشركة 872] [ترقيم العلميه 865]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أبو داود (916) و (2501)، والنسائي (8819) من طريق أبي توبة، بهذا الإسناد. ولفظه عندهما كلفظ رواية المصنف الآتية برقم (2464).
حوالہ / مصدر: اسے امام ابوداؤد (916، 2501) اور امام نسائی (8819) نے ابو توبہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ان دونوں کے ہاں اس کے الفاظ وہی ہیں جو مصنف کی آگے آنے والی روایت نمبر (2464) میں ہیں۔
وسيأتي برقم (5045) مختصرًا بنحو قصة الحراسة لكن من حديث أبي كبشة السلولي عن أبي

مرثد، بدل سهل ابن الحنظلية، وأنَّ الفارس الذي حرسهم كان أبا مرثد نفسه، ولكن إسناده ضعيف.

تفصیلِ روایت: یہ روایت آگے نمبر (5045) پر پہرے داری (حراست) کے قصے کے طور پر مختصراً آئے گی، لیکن وہ سہل بن حنظلیہ کے بجائے ابوکبشہ السلولی عن ابی مرثد کی روایت سے ہوگی کہ پہرہ دینے والا شہسوار خود "ابو مرثد" تھے، مگر اس کی سند ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 784 سے ماخوذ ہے۔