کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: رسولُ اللہ ﷺ جب نماز میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: اے اللہ! میں شیطان مردود سے، اس کے وسوسوں، تکبر اور پھونک سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا محمد بن فُضَيل، عن عطاء بن السائب، عن أبي عبد الرحمن السُّلَمي، عن ابن مسعود قال: كان رسول الله ﷺ إذا دخل في الصلاة، يقول: "اللهمَّ إني أعوذُ بك من الشيطان الرجيم ونفخِه وهَمْزِهِ وَنَفْثِه". قال: فهمزُه: المُوتَة، ونفثُه الشِّعر، ونفخُه: الكبرياء (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، وقد استشهد البخاريُّ بعطاء بن السائب.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 749 - صحيح وقد استشهد البخاري بعطاء
هذا حديث صحيح الإسناد، وقد استشهد البخاريُّ بعطاء بن السائب.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 749 - صحيح وقد استشهد البخاري بعطاء
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع فرماتے تو یہ کہتے: ”اے اللہ! میں شیطان مردود، اس کے پھونکنے (تکبر)، اس کے تھوکنے (بری شاعری) اور اس کے کچوکے (جنون و دیوانگی) سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور امام بخاری نے عطاء بن سائب سے استشہاد کیا ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور امام بخاری نے عطاء بن سائب سے استشہاد کیا ہے۔
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن إسحاق بن إبراهيم العَدْل ببغداد، حدثنا أحمد بن إسحاق بن صالح الوزَّان، حدثنا عبد الله بن عمرو بن حسَّان، حدثنا شَرِيك، عن سالم، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عباس قال: كان رسول الله ﷺ يَجهَرُ بِبِسْم الله الرَّحمن الرَّحيم (2). قد احتجَّ البخاري بسالم هذا: وهو ابن عَجْلان الأفطَس، واحتجَّ مسلم بشَرِيك، وهذا إسناد صحيح وليس له عِلَّة! ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ» بلند آواز (جہر) کے ساتھ پڑھتے تھے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ سند صحیح ہے اور اس میں کوئی علت نہیں ہے، بخاری و مسلم نے اس کے راویوں سے احتجاج کیا ہے لیکن اسے روایت نہیں کیا۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ سند صحیح ہے اور اس میں کوئی علت نہیں ہے، بخاری و مسلم نے اس کے راویوں سے احتجاج کیا ہے لیکن اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني (1)، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا علي بن حَكِيم، أخبرنا المعتمِر بن سليمان، عن مثنَّى بن الصَّبّاح، عن عمرو بن دينار، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس: أنَّ النبي ﷺ كان إذا جاءه جبريل فقرأَ ﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾ عَلِمَ أنها سورةٌ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 750 - صحيح وليس له علة
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 750 - صحيح وليس له علة
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کے پاس «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ» "اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان بہت رحم والا ہے" لے کر آتے تو آپ ﷺ سمجھ جاتے کہ یہ (نئی) سورت ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔