المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
كَانَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ وَهَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ " باب: رسولُ اللہ ﷺ جب نماز میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: اے اللہ! میں شیطان مردود سے، اس کے وسوسوں، تکبر اور پھونک سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
حدیث نمبر: 762
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني (1)، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا علي بن حَكِيم، أخبرنا المعتمِر بن سليمان، عن مثنَّى بن الصَّبّاح، عن عمرو بن دينار، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس: أنَّ النبي ﷺ كان إذا جاءه جبريل فقرأَ ﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾ عَلِمَ أنها سورةٌ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 750 - صحيح وليس له علةحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کے پاس «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ» "اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان بہت رحم والا ہے" لے کر آتے تو آپ ﷺ سمجھ جاتے کہ یہ (نئی) سورت ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) وقع هنا في المطبوع تقديم وتأخير في مجموعة كبيرة من الأحاديث ممّا جعل في ترتيب الأحاديث اضطرابًا شديدًا.
نوٹ / توضیح: مطبوعہ نسخے میں یہاں احادیث کے ایک بڑے مجموعے میں تقدیم و تاخیر (آگے پیچھے ہونا) واقع ہوئی ہے، جس کی وجہ سے احادیث کی ترتیب میں شدید اضطراب پیدا ہو گیا ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، المثنى بن الصباح متفق على ضعفه، وقد توبع كما في الحديثين التاليين، لكن اختُلف في وصله وإرساله كما هو مبيَّن في التعليق على "سنن أبي داود" (788) حيث رواه من طرق عن سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، به موصولًا ومرسلًا.
درجۂ حدیث: حدیث اپنی اصل میں صحیح ہے، مگر یہ خاص سند المثنیٰ بن الصباح کے متفقہ ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
متابعات و شواہد: تاہم اگلی دو احادیث میں اس کی متابعت موجود ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کے موصول (متصل) اور مرسل ہونے میں اختلاف پایا جاتا ہے جیسا کہ 'سنن ابی داود' (788) کے حاشیے میں مذکور ہے، جہاں سفیان بن عیینہ نے اسے عمرو بن دینار سے دونوں صورتوں میں روایت کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: مطبوعہ نسخے میں یہاں احادیث کے ایک بڑے مجموعے میں تقدیم و تاخیر (آگے پیچھے ہونا) واقع ہوئی ہے، جس کی وجہ سے احادیث کی ترتیب میں شدید اضطراب پیدا ہو گیا ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، المثنى بن الصباح متفق على ضعفه، وقد توبع كما في الحديثين التاليين، لكن اختُلف في وصله وإرساله كما هو مبيَّن في التعليق على "سنن أبي داود" (788) حيث رواه من طرق عن سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، به موصولًا ومرسلًا.
درجۂ حدیث: حدیث اپنی اصل میں صحیح ہے، مگر یہ خاص سند المثنیٰ بن الصباح کے متفقہ ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
متابعات و شواہد: تاہم اگلی دو احادیث میں اس کی متابعت موجود ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کے موصول (متصل) اور مرسل ہونے میں اختلاف پایا جاتا ہے جیسا کہ 'سنن ابی داود' (788) کے حاشیے میں مذکور ہے، جہاں سفیان بن عیینہ نے اسے عمرو بن دینار سے دونوں صورتوں میں روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 762 سے ماخوذ ہے۔