کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اذان جفت (دو دو کلمات) ہوتی ہے اور اقامت طاق (ایک ایک کلمہ) ہوتی ہے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا يحيى بن مَعين، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، عن أيوب السَّخْتِياني، عن أبي قِلَابة، عن أنس: أن رسول الله ﷺ أَمَرَ بلالًا أن يَشفَعَ الأذانَ ويُوترَ الإقامة (1).
هذا حديث أسندَه إمامُ أهل الحديث ومزكِّي الرواة بلا مُدافَعة. وقد تابعه عليه الثقةُ المأمون قتيبةُ بن سعيدٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 710 - وهو على شرط الشيخين
هذا حديث أسندَه إمامُ أهل الحديث ومزكِّي الرواة بلا مُدافَعة. وقد تابعه عليه الثقةُ المأمون قتيبةُ بن سعيدٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 710 - وهو على شرط الشيخين
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بلال (رضی اللہ عنہ) کو حکم دیا کہ اذان کے کلمات دو دو بار (جفت) اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار (طاق) کہیں۔
اس حدیث کو ائمہ حدیث نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی یحییٰ بن معین ثقہ ہیں۔
اس حدیث کو ائمہ حدیث نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی یحییٰ بن معین ثقہ ہیں۔
كما حدَّثَناه أبو الحسن أحمد بن الخَضِر الشافعي وأبو العباس محمد بن حفص الهَرَوي قالا: حدثنا أبو علي عبد الله بن محمد بن علي الحافظ البَلْخي، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، عن أيوب، عن أبي قِلَابة، عن أنس: أنَّ رسول الله ﷺ أمر بلالًا أن يَشفَعَ الأذانَ، ويُوترَ الإقامة (2). الشيخانِ لم يُخرجاه بهذه السِّياقة! وهو صحيح على شرطهما.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اذان کے کلمات دو دو بار اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔