المستدرك على الصحيحين
أول كتاب الصلاة— نماز کا بیان
يُشْفَعُ الْأَذَانُ وَيُوتَرُ الْإِقَامَةُ باب: اذان جفت (دو دو کلمات) ہوتی ہے اور اقامت طاق (ایک ایک کلمہ) ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 729
كما حدَّثَناه أبو الحسن أحمد بن الخَضِر الشافعي وأبو العباس محمد بن حفص الهَرَوي قالا: حدثنا أبو علي عبد الله بن محمد بن علي الحافظ البَلْخي، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، عن أيوب، عن أبي قِلَابة، عن أنس: أنَّ رسول الله ﷺ أمر بلالًا أن يَشفَعَ الأذانَ، ويُوترَ الإقامة (2). الشيخانِ لم يُخرجاه بهذه السِّياقة! وهو صحيح على شرطهما.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اذان کے کلمات دو دو بار اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح كسابقه. وهو من طريق قتيبة عند الترمذي (193) والنسائي (1604).
درجۂ حدیث: اس کی سند پہلے کی طرح صحیح ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ قتیبہ کے طریق سے ترمذی اور نسائی کے ہاں موجود ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند پہلے کی طرح صحیح ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ قتیبہ کے طریق سے ترمذی اور نسائی کے ہاں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 729 سے ماخوذ ہے۔